محکمہ تعلیم کالج اساتذہ کو اعلان کردہ کم از کم اجرت کی پالیسی پر عمل کرے، پروفیسر حمید خان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان پروفیسرزاینڈ لیکچرارایسوسی ایشن کے رہنما پروفیسر حمید خان نے کہا ہے کہ پچھلے پانچ سال سے کالجز اساتذہ بی ایس پروگرام کے پیپرسیٹنگ،پیپرمارکنگ،امتحانی عمل،کالجزاور یونیورسٹی کے ساتھ کوارڈینیٹنگ اور کٹرولنگ کا کام بغیر کسی اجرت کے سرانجام د ے رہے ہیں بی ایس سمیت انٹر کلاسز کی اجرتوں کی ریمونریشن پالیسی برسوں سے تعلق کا شکار ہے جب تک محکمہ تعلیم بی ایس ریمونریشن کے حکومتی اعلان کردہ کم از کم اجرت کی پالیسی یاگائیڈ لائنز جاری نہیں کرتی اسوقت تک امتحانات کے بائیکاٹ اور مارکنگ سے دستبرداری سمیت دیگر آپشنز پانچ جون کو بی پی ایل اے کی ایگزیکٹو کمیٹی میں مشاورت اورتوثیق کیلئے پیش کئے جائیں گے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سرکاری تعلیمی ادارے بلوچستان کے غریب محنت کش اور نچلے متوسط طبقے کے بچوں کے حصو ل علم کا واحد ذریعہ ہیں صوبے کے تعلیمی نظام کی درجہ بندی میں سرکاری کالجز کو اس بنیاد پر خصوصی امتیاز حاصل ہے کہ انتہائی مشکل اور سخت حالات میں کالجز اساتذہ کی شب و روز محنت کی بدولت صوبے میں کوئی پرائیویٹ ادارہ ان کے ہم پلہ نہیں ابھر سکااکیسویں صدی کے ساتھ تعلیمی نظام کو ہم آہنگ کرنے کیلئے کالجز کی سطح پر پرانے تعلیمی نظام کی جگہ بی ایس پروگرام کا آغاز کیا گیا اس بنیادی تبدیلی کو کامیاب بنانے کیلئے جس بلند سطح اور بڑے پیمانے پرکالجز میں انفراسٹرکچر کی تعمیر،سہولیات کی فراہمی،نئے نظام کو رواج دینے کیلئے اساتذہ کی تربیت اور ریفریشر کورسز کی ضرورت تھی لیکن حکومت اور محکمہ کالجز نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اس کی برعکس بیورو کریسی اور حکومت کے منفی اقدامات بے رحمت کٹوتیوں،اساتذہ و حاصل حقوق پر حملوں اورتعلیم دشمن ظالمانہ فیصلوں کے ذریعے صوبے میں سرکاری کالجز کو ناکام جبکہ تعلیم کو کاروبار بنانے کی خاطر پرائیویٹائزیشن کا راستہ ہموارکیاجارہا ہے جس سے غریب طلباء و طالبات کیلئے اعلیٰ تعلیم کا حصول ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ انتظامی پوسٹوں پر تعینات 20گریڈ کے آفیسرز کو دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپے ایگزیکٹو الاونس اوراردلی الاونس دیا جاتا ہے جبکہ کالج اساتذہ کودیگر مراعات تو دور کی بات انہیں صرف چند ہزارچارج الاونس دیا جاتا ہے جبکہ اردلی الاونس سے روزاول سے ہی محروم رکھا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں