زرعی ٹیوب ویلز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ اور 2 سو ٹرانسفارمر اتارنا زیادتی ہے، زمیندار ایکشن کمیٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان نے زرعی ٹیوب ویلز پربجلی کی لوڈشیڈنگ اور زمینداروں کے 200سے زائد ٹرانسفارمرز اتارنے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کی کمی نے زمینداروں کے تیار فصلات تباہ کردئیے دوسری جانب رہی سہی کسر کھاد کی قلت نے پوری کردی، بلوچستان کے زمینداروں کیلئے کھاد نایاب جبکہ اسمگلنگ کیلئے موجود ہیں اسمگلرز کو انتظامیہ، کسٹم اور سیکورٹی فورسز کی آشیر باد حاصل ہیں اورزمینداروں کو2بوری کھاد لے جانے کی بھی اجازت نہیں ہے،اگر مسائل اسی طرح رہیں تو زمیندار ایکشن کمیٹی آئندہ اجلاس میں سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کریگی ٹنل فارمنگ سے وابستہ زمینداروں کے مسائل متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائیں گے۔جمعہ کے روز زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کا اجلاس چیئرمین و رکن صوبائی اسمبلی ملک نصیر احمد شاہوانی کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں جنرل سیکرٹری حاجی عبدالرحمن بازئی،وائس چیئرمین حاجی ولی محمدرئیسانی،حاجی شیر علی مشوانی،حاجی نور احمد بنگلزئی،حاجی عزیز سرپرہ،حاجی عبدالجبار مجک،حاجی محمد افضل بنگلزئی حاجی یعقوب،کاظم خان اچکزئی،سید صدیق اللہ آغا، حاجی عبدالقدیر گل، عبدالغفار، عزیز مغل قلات سمیت دیگر زمینداروں نے شرکت کی۔ اجلاس کے ایجنڈے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ، کھاد کی قلت اور دشت، تیرہ میل، سریاب ودیگر علاقوں سے کیسکو کی جانب سے 200 سے زائد ٹرانسفارمر اٹھانے کے مسائل زیر غور لایا گیا۔ اجلاس میں زمینداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے زمینداروں کو ہمیشہ سے بجلی کے مسائل کا سامنا رہتا ہے جبکہ کھاد کی قلت کی وجہ سے زمیندار ذہنی کوفت سے دو چار ہیں جبکہ رہی سہی کسر کیسکو نے پوری کردی ہے کہ زرعی ٹیوب ویلز کے 200 سے زائد ٹرانسفارمر اتار لئے گئے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع مستونگ، نوشکی،قلعہ عبداللہ،پشین،زیارت میں بجلی کا حال ہے کہ زرعی ٹیوب ویل کیلئے بجلی صرف 3 سے4گھنٹے مل رہا ہے زیارت میں جوبجلی میسر ہوتی ہے اس کی وولٹیج کم ہوتا ہے۔ قلعہ عبداللہ اور گلستان گرڈ پر 2 ماہ سے بجلی کی صرف 4 گھنٹے کی بجلی سپلائی کی جا رہا ہے جبکہ 6 گھنٹے کا تحریری معاہدہ موجود ہیں۔ عاصم آباد، دروازہ گرڈ میاں غنڈی و دیگر پر بل 10 ہزار روپے دی جا رہی ہے بجلی 6 گھنٹے دی جا رہی ہے۔اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ مستونگ نوشکی سمیت مختلف اضلاع میں کھاد کی قلت ہیں پہلے محکمہ زراعت کے حکام کی جانب سے 30 سے 40 بوری کھاد کی پرمٹ جاری کرتے تھے اب وہ سلسلہ بھی بند ہوگیاہے بعض زمیندار پرمٹ کیلئے سرگرداں رہتے ہیں،اسی طرح گرد گاپ،کانک، نوشکی، نوحصار، پنجپائی لک پاس، گلنگور کے مقام پرقائم چیک پوسٹوں پر زمینداروں کو 10 بوری کھاد لے جانے نہیں دیا جا رہا جبکہ اسمگلرز کے سینکڑوں ٹرک کھاد پر کوئی پابندی نہیں ہے بلوچستان کے زمینداروں کیلئے کھاد نایاب جبکہ اسمگلنگ کیلئے موجود ہیں اسمگلرز کو انتظامیہ، کسٹم اور سیکورٹی فورسز کی آشیر باد حاصل ہیں فصلات تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ زمیندار ایکشن کمیٹی کا وفد وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری سے ملاقات کریگی اور انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا جائے گا اس کے بعد مسائل حل نہ ہوئے اور یہ سلسلہ جاری رہا تو مجبورا زمینداروں کو روڈوں پر نکلنا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں