نصیرآباد ڈویژن میں پانی کی قلت، محکمہ آبپاشی کی غفلت سے نہریں خشک ہوگئیں

نصیر آباد (انتخاب نیوز) نصیرآباد ڈویژن میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی، نہریں خشک سالی کا منظر پیش کرنے لگیں۔ محکمہ آبپاشی کی غلط منصوبہ بندی، نااہلی کیخلاف رکن صوبائی اسمبلی میر سلیم احمد خان کھوسہ کی قیادت میں آر ڈی 418 میر حسن کے مقام پر سینکڑوں زمینداروں کسانوں کے ہمراہ احتجاج۔ مظاہرین محکمہ آبپاشی کیخلاف سخت نعرے بازی کر رہے تھے نااہل آبپاشی انتظامیہ کے باعث پورا نصیرآباد ڈویژن میں اس وقت شیدید پانی کی قلت کا سامنا ہے، زرعی آبادی کو درکنار عوام کے پینے کے لیے پانی میسر نہیں تالاب خشک ہوچکے ہیں، بڑی تعداد جانور مر رہے ہیں اگر اسی طرح سلسلہ جاری رہا تو کوئی بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان، کورکمانڈر بلوچستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ ان خیالات کا اظہار رکن صوبائی اسمبلی میر سلیم احمد خان کھوسہ نے احتجاجی مظاہرہ اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ رکن صوبائی اسمبلی میر سلیم احمد خان کھوسہ نے مزید کہا کہ ایک سازش کے تحت پٹ فیڈر کا پانی آگے چھوڑا جارہا ہے کیونکہ وہاں پر بااثر اور ان کی اپنی زمینیں ہیں، ان بنجرز زمینوں کو آباد کیا جائے، ہم ہرگز خاموش نہیں رہیں گے، پانی یہاں سے جارہا ہے کیا ہم صرف پانی کو دیکھ سکتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پانی کا بحران تین سال پہلے بھی تھا مگر اس وقت صحیح منصوبہ بندی کرکے بحران کو ختم کیا گیا اب پٹ فیڈر کینال میں پانی ہونے کے باوجود نصیر شاخ جھڈیر شاخ سمیت پورے ڈویژن کی دیگر ذیلی شاخوں کو پانی نہیں دیا جارہا ہے، 50 سینٹی گریڈ چل رہا ہے، اس صورت میں لوگوں کو پینے کا پانی نہیں ملے تو لوگوں کا کیا حال ہوگا، گوٹھوں، دیہات میں پینے کے تالاب خشک ہوچکے ہیں بڑی تعداد میں جانور مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر آبپاشی اور سیکرٹری آبپاشی کا تعلق بھی اسی ڈویژن سے ہے مگر پھر بھی بدقسمتی سے علاقے کے لوگوں کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں مل رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پٹ فیڈر کینال میں ہونے والی بھل صفائی کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی جائے بھل صفائی کے کام سے مطمئن نہیں ہیں روسی ٹریکٹرز کے ذریعے کبھی بھل صفائی ہوئی ہے اس کمیٹی میں علاقے کے زمینداروں کو بھی شامل کیا جائے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ آج ہم چھ سات سو لوگوں کے ساتھ احتجاج کرنے ائے ہیں اگر ذیلی شاخوں میں پانی کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا گیا تو آئندہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک ہوں اور کہاکہ نصیرآباد ڈویژن بلوچستان کا سب سے بڑا گرین بیلٹ ہے مگر محکمہ آبپاشی انتظامیہ اس گرین بیلٹ کو تباہ و برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے ہم ان کو ایسا کرنا نہیں چھوڑیں گے 70 فیصد بلکہ لاکھوں عوام کا روزگار اس نہری سسٹم میں ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ایک سازش کے تحت ذیلی شاخوں کے گیٹوں کو بند کرکے پٹ فیڈر کینال کا پانی آگے چھوڑ رہے ہیں تاکہ بااثر شخصیات کی بنجرز زمینیں آباد ہوں، یہاں کے عوام کو پینے کے لیے پانی نہیں وہاں بنجرز زمینوں کو پٹ فیڈر کینال کے پانی سے آباد کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں