لسبیلہ کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جام گروپ کا مرکزی شاہراہ پر دھرنا
اوتھل (انتخاب نیوز) لسبیلہ کو دو ضلعوں میں تقسیم کے خلاف اتوار کی شام سے رات تک جام گروپ کا اوتھل میں احتجاجی مظاہرہ سینکڑوں مظاہرین نے مین قومی شاہراہ کو لاکھڑا موڑ پر مین شاہراہِ کو آگ جلا کر اور رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑک کو عام ٹریفک کے لئے بند کر دیا،جس کے سبب کراچی سے کوئٹہ اور اندرون بلوچستان جانے اور آنے والی گاڑیوں کی شاہراہ کے دونو ں اطراف لمبی قطا ریں لگ گئیں، اس موقع پر مظاہرین کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جس میں لسبیلہ کی تقسیم نامنظور،نامنظور کے نعرے درج تھے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ لسبیلہ کو تقسیم کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ضلع حب کا قیام کسی ایک فرد یا گروپ کا نہیں لاسی قوم کی شناخت، تہزیب، تمدن کو مٹانے اور لوگوں کو آپس میں تقسیم کرنے کا مسئلہ ہے انہوں نے کہا ہے لسبیلہ بھر کی عوام کو لسبیلہ کی تقسیم کے معاملے پر شدید اشتعال ہے یہ معاملہ کسی ایک فرد کا نہیں ہے بلکہ لسبیلہ کے ہر ایک ذی شعور لاسی کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے انہوں حکومت بلوچستان سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے ورنہ ہمارا یہ احتجاج جاری رہے گا واضح رہے کہ حکومت بلوچستان نے ضلع لسبیلہ میں حب ضلع کے نام سے دوسرا ضلع بنانے کا اعلان کیا ہے۔جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقہ بندیوں کے بعد یکم ستمبر کو نئے ضلع کا نوٹیفیکیشن جاری ہوگا۔ لیکن سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان جن کے آباؤ اجداد لسبیلہ کے سابق والئی ریاست رہے ہیں جام کمال خان لسبیلہ کے نواب بھی ہیں جو کہ حب ضلع کے وجود کے شدید مخالف ہیں ان کا موقف ہے کہ ضلع لسبیلہ کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں اور حب ضلع ان کے درمیان خلیج ڈالنے کے مترادف ہے۔لسبیلہ کے عوام کسی بھی صورت میں حب ضلع کے وجود کو تقسیم کرنے نہیں دیں گے۔چاہے اس کے لئے ہمیں کسی بھی قسم کی قربانی دینے پڑے۔ہم اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔


