سندھ اسمبلی کے باہر خواتین پر پولیس تشدد قبائلی روایات کی پامالی ہے، بی این پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کراچی میں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے پرامن احتجاج پر سندھ حکومت کے وحشیانہ اقدام اور لاٹھی چارج بلوچ روایات کی پامالی‘ خواتین بچوں کے تقدس کا احترام نہ رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فورسز اور انتظامیہ کی جانب سے ایسے اقدامات قابل مذمت ہیں۔ بی این پی اس کی مذمت کرتے ہوئے کہنا چاہتی ہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ بلوچستان کے مسائل میں سب سے اہم مسئلہ ہے جس کی وجہ سے بلوچستان میں بحران شدت اختیار کر رہا ہے بڑی تعداد میں لاپتہ افراد کے لواحقین آواز بلند کر رہے ہیں پارٹی سمجھتی ہے کہ بلوچ مسئلہ اور بلوچستان کے مسائل کو مذاکرات سے حل کیا جائے، پارٹی کے سامنے ہمیشہ بلوچ اجتماعی معاملات اہمیت کے حامل رہے ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ ہر کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کرے پارٹی ہر فورم پر پہلے بھی لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچستان کے معاملات کو بہتری کی جانب لے جانے کی کوشش کرتی رہی ہے اب بھی ہم سمجھتے ہیں کہ لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کے تمام جملہ مسائل کو سیاسی بنیادوں پر حل کیا جائے اور طاقت کا سہارا پہلے بھی لیا گیا اور اب بھی لیا جا رہا ہے یہ مسئلے کا حل نہیں مسائل کا حل مذاکرات ہیں۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اپنا سیاسی جمہوری کردار ادا کرتے رہیں گے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل لاپتہ افراد سمیت دیگر مسائل کے حل کیلئے غیرمتزلزل انداز میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ ہو‘ پارلیمان ہو یا کہ سڑکوں پر ہمیشہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جدوجہد کی اور ہمیشہ یہ جدوجہد جاری رہے گی تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں