بجٹ میں نظر انداز کرنے پر ایف بی آر ملازمین کا قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے ملازمین نے بجٹ 2022-23ء میں منجمداسپیشل الاؤنس کی عدم بحالی اور فیول الاؤنس میں عدم اضافے کیخلاف قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کردیا۔ جمعہ کے روز ملک بھر کی طرح کوئٹہ حب اور سبی ٹیکس دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی جائے گی۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ملازمین کا کہنا ہے کہ بجٹ 2022-23ء میں ایف بی آر ملازمین کو نظر انداز کیا گیا ہے اور گریڈ 1 سے 22 تک کے ایف بی آر ملازمین و افسران کا منجمد اسپیشل الاؤنس بحال نہیں کیا گیا جبکہ فیول الاؤنس کنوینس الاؤنس میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو قلم چھوڑ ہڑتال کو غیر معینہ مدت تک توسیع دیں گے۔ واضح رہے کہ ایف بی آر ملازمین نے اس حوالے چیئرمین ایف بی آر کو تحریر طور پر آگاہ کردیا ہے۔ ملازمین کے مطابق حالیہ وفاقی بجٹ میں بہت سے وفاقی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا اور مختلف الاؤنسز میں بھی اضافہ کردیا ہے لیکن ایف بی آر کے ملازمین ابھی تک تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے محروم ہیں جو کہ امتیازی سلوک کے مترادف ہے حکومت نے بجٹ سے پہلے ایف بی آر کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کو ایجنڈے میں شامل کیا تھا لیکن بجٹ اعلان کے دوران اضافے کو پس پشت ڈال دیا گیا، ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ ریونیو جمع کرنے کے انتھک محنت کرتے ہیں اور ٹیکسز جمع کرتے ہیں اور ملک کے معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ ملازمین ہر سال سخت محنت کرکے اور آمدن کی صورت ایک بہت بڑی رقم قومی خزانے میں جمع کرتے ہیں لیکن بد قسمتی ایف بی آر کے 1 سے 16 اور 17 سے 22 تمام ملازمین تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے محروم ہیں، ملازمین کا کہنا ہے کہ 1 سے 22 گریڈ کے تمام ملازمین اور افسران کے آئی جی پی الاؤنس کو فریز کر دینے کی وجہ سے وہ ہر سال بجٹ میں کسی بھی قسم کا الاؤنس لگنے کا فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں جبکہ ان کا آئی جی پی الاؤنس ڈی فریزر نہیں کیا جا رہا ان کا مطالبہ ہے حکومت ایف بی آر ملازمین کو اسپیشل ریونیو الاؤنس اور فیول الاؤنس دیا جائے بصورت دیگر تمام ملازمین شدید احتجاج کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں