بی این پی میں آمرانہ طرز کے فیصلے اور مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے، کفایت اللہ بلوچ
پنجگور (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سابق ضلعی صدر کفایت اللہ بلوچ، سابق ضلعی صدر علی احمد، سابق ضلعی جنرل سیکرٹری راشد لطیف بلوچ، سابق تحصیل صدر محمد جان بلوچ، سابق ضلعی انفارمیشن سیکرٹری زبیر ایوب بلوچ، یعقوب راہی، عطاء اللہ بلوچ، استاد رضا بلوچ ضلع بھر سے بی این پی کے کل 41 اکتالیس یونٹس کے عہدیداران، کارکنان سمیت ہزاروں افراد کا بی این پی سے مستعفی ہونے کا اعلان۔ اعلان بی این پی مینگل کے سابق ضلعی صدر کفایت اللہ بلوچ کی رہائشگاہ میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کیاگیا۔ اس موقع پر ضلع بھر سے بی این پی کے سابق ضلعی و تحصیل عہدیداران اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ کفایت اللہ بلوچ نے کہاکہ ہم گزشتہ تین3 دہائیوں سے بی این پی کے پلیٹ فارم سے وابستہ تھے اور پارٹی کی ترقی کیلئے دن رات قربانیاں دیں، بالخصوص پنجگور میں پارٹی کو فعال بنانے کیلئے اپنے خون پسینے سے اس درخت کی آبیاری کی۔ کسی بھی قسم کے جانی ومالی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ پارٹی کیلئے ہر قسم کی تکالیف برداشت کرکے جیل کی صعوبتیں کاٹیں اور مقدمات کا سامنا کیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پارٹی میں کارکنوں کی جگہ آج سرمایہ دار اور بڑی بڑی گاڑیوں والوں نے لے لی ہے۔ قربانی دینے والوں کی قربانیوں کو فراموش کرکے پارٹی میں نئے شمولیت کرنے والوں کو کارکنوں اور نظریاتی دوستوں سے زیادہ ترجیح دی جارہی ہے۔ عہدوں کیلئے ورکرز کو نظرانداز کرکے پیراشوٹرز کو ترجیح دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور پارٹی کی طرف سے ہمیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ہم ان غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرائیں گے لیکن پھر بھی اس کے برعکس ہوا۔ اب بھی پارٹی میں آمرانہ طرز کے فیصلے کئے جارہے ہیں اور پارٹی میں جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔ مخلص ورکرز کی پارٹی میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ سرزمین اور قوم کی خدمت کے بجائے صرف مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم بلوچستان نیشنل پارٹی کے ساتھ مزید سیاسی سفر کو جاری نہیں رکھ سکتے ہیں، اس پریس کانفرنس کے توسط سے بی این پی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کرتے ہیں۔ آج کے بعد ہمارا بی این پی مینگل سے کوئی تعلق نہیں۔


