نئے بارڈر پوائنٹ کھلنے سے سرحدی علاقوں کے عوام کو ریلیف ملے گا، زبیدہ جلال

تربت (انتخاب نیوز) ممبر قومی اسمبلی اور سابقہ وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے کمشنر آفس تربت کے مقام پر ایک پروقار تقریب کے دوران اپنے خصوصی فنڈز سے ضلع کیچ کے مختلف تعلیمی اداروں کیلئے سات عدد بسوں کو انکے سربراہان کے حوالے کردیں۔ اس موقع پر تقریب میں کمشنر مکران شبیر احمد مینگل، وائس چانسلر تربت یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر جان محمد، ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ لوکل گورنمنٹ شے ظہور الحسن، پرنسپل میر جلال خان گرلز ہائر سیکنڈری سکول مند رحیمہ جلال سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے سربراہان موجود تھے۔ اس دوران تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زبیدہ جلال نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ تعلیم حاصل کیے بغیر ترقی کے سفر میں شامل نہیں ہوسکتا اور ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی کے لیے آگے بڑھیں تاکہ ہمارے نوجوانوں ان تعلیم اداروں میں علم حاصل کرکے ایک پڑھے لکھے اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ملک اور قوم کے لیے کام کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کیچ تعلیم کے حوالے سے بلوچستان کے ٹاپ ڈسٹرکٹ میں شامل ہے اور مجھے قوی امید ہے آئندہ آنے والے وقتوں میں یہاں کے نوجوان دنیا کے کونے کونے میں ملک کا نام روشن کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں باقی چیزوں کو ایک طرف کرکے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان طلبہ و طالبات ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور ہمیں ان کی تعلیم و تربیت کے بارے میں سنجیدہ طریقے سے کام کرنا چاہیے تاکہ یہ مستقبل میں بڑے ہوکر وطن عزیز کی تعمیر وترقی کے لیے کام کرسکیں۔قبل ازیں زبیدہ جلال نے یونیورسٹی آف تربت، میر جلال خان گرلز ہائیر سیکنڈری سکول مند،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کوہ پشت مند، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بلنگور،گورنمنٹ ڈگری کالج تمپ،گورنمنٹ انٹر کالج بلیدہ اور گورنمنٹ ڈگری کالج ہوشاب کے بسوں کی چابیاں باضابطہ طور پر انکے سربراہان کے حوالے کردیں۔واضح رہے فی بس تقریباً ایک کروڑ 35 لاکھ روپے کی لاگت سے 63 سیٹوں پر مشتمل 7 بسوں کو 15 لاکھ روپے کے ڈسکاؤنٹ ریٹ پر سوزوں کمپنی سے خریدا گیا ہے جو ضلع کیچ کے تمام چار تحصیلوں کے طلبہ وطالبات کو انکے تعلیمی اداروں میں آنے جانے کی سہولیات پہنچاہیں گی۔ بعد ازاں میڈم زبیدہ جلال نے تربت پریس کلب میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر بلوچستان کی ترقی کے لیے کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی بلوچستان پیکیج پر عملدرآمد کے بعد بلوچستان میں مواصلات کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا ہونگی جس کے مثبت اثرات عوام کی زندگیوں پر پڑیں گے انہوں نے کہا کہ گوادر مند روڈ اور تربت مند روڈ کی تعمیر سے جنوبی بلوچستان ملک کے دیگر علاقوں سے منسلک ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں نئے بارڈر پوائنٹ کھلنے کے بعد علاقے کے عوام کو بہت زیادہ ریلیف ملے گا۔ اس دوران انہوں نے مکران ڈویژن کو بجلی کی فراہمی کے لیے اگلے سال مارچ تک نیشنل گرڈ سے منسلک کرانے کی بھی یقین دہانی کراہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں