سر زمین اور عوام کیلئے پھانسی کا پھندا چومنا سعادت سمجھیں گے،ہدایت الرحمن

تربت (نمائندہ انتخاب) حق دو تحریک بلوچستان کے قائد مولانا ہدایت الرحمن نے کہاہے کہ حق دو تحریک آخری حدتک اپنے رہنماؤں اورکارکنان کا ساتھ دے گی، اپنے کارکنان کوتنہا نہیں چھوڑیں گے، یعقوب جوسکی، غلام اعظم، حاجی کریم زہری، نوید نصیر ودیگرکے خلاف قائم کئے گئے مقدمات قانونی اندازمیں لڑیں گے، کیچ کے وکلاء کی جانب سے حق دو تحریک کے کارکنان کے خلاف مقدمات کی پیروی سے انکار پر افسوس ہی کیاجاسکتاہے، عید کے بعد کیچ میں تاریخی ریلی نکالی جائے گی، ان خیالات کااظہار انہوں نے پیرکی شام تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر حق دو تحریک گوادرکے رہنما حسین واڈیلہ، غلام یاسین بلوچ، صادق فتح، محمدیعقوب جوسکی، غلام اعظم دشتی، مولانا نصیر احمد زامرانی، عیسیٰ غمی، مفتی احمد بھیل زئی، نوید نصیر سمیت دیگر رہنما اورکارکنان کثیرتعدادمیں موجودتھے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہاکہ کیچ کے وکلاء نے بابائے کیچ الحاج ملااحمددشتی مرحوم جو کیچ کے محسن رہے ہیں ان کے فرزند غلام اعظم دشتی کاکیس نہ لڑکر ان کی روح کو تڑپایاہے، آخر یہ لوگ جن کے خلاف بے بنیاد ایف آئی آر درج کرائے ہیں یہ قاتل ہیں، ڈرگ مافیا ہیں جرائم پیشہ ہیں کہ ان کے کیس کو کیچ کے وکلاء نے لڑنے سے انکار کیاہے اگر کیچ کے وکلاء نے اگر فیصلہ کیاہے کہ وہ آئندہ ڈرگ مافیا، لینڈ مافیا، ڈیتھ اسکواڈ کے کیسوں کی پیروی نہیں کریں گے تو ہم انہیں خراج تحسین پیش کریں گے، ہم محراب خان گچکی ایڈووکیٹ اورعبید بشیر ایڈووکیٹ کوسلام پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے جرات، غیرت اوربلوچیت کا ثبوت دیتے ہوئے اس کیس کی عدالتی پیروی کررہے ہیں انہوں نے آل پارٹیز کیچ کے ذمہ داراں کے رویے پربھی افسوس کااظہارکیا انہوں نے کہاکہ گلزاردوست کا حق دو تحریک سے تعلق نہیں ہے البتہ حق دو تحریک کے دھرنے میں انہوں نے شرکت کی تھی اور حق دوتحریک نے ان کے کوئٹہ تک پیدل مارچ کا ساتھ دیا، مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہاکہ لاپتہ افراد کے حوالے سے گزشتہ ہفتے ڈی بلوچ دھرنا پر ڈی سی کیچ نے15 دنوں کی مہلت مانگی تھی ایک ہفتہ گزرگیاہے ایک ہفتہ کے دوران اس سلسلے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے ان کی تفصیلات سے آگاہ کیاجائے کہ کتنے لاپتہ نوجوان اس دوران بازیاب کرائے گئے ہیں، انہوں نے کیچ کی ضلعی انتظامیہ کی موجودہ رجیم کے تبادلہ کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ رجیم عوام کے مسائل کے حل میں مکمل طورپر ناکام ہے، انہوں نے کہاکہ بارڈراورچیک پوسٹوں پربھتہ خوری کسی صورت قبول نہیں، ٹوکن سسٹم اور بھتہ خوری کے خاتمہ تک جدوجہد جاری رہے گی، آج بھی چیک پوسٹوں پر تیل بردار گاڑیوں سے لیویز بھاری بھتہ وصول کررہی ہے آج میں پنجگور سے تربت آرہاتھا راستے میں درجنوں گاڑیاں میں نے دیکھے ہیں جو چیک پوسٹوں پر بھتہ دے کر گزرے ہیں، بھتہ خوری کے خلاف احتجاج کیاجائے گا اور دھرنا دیاجائے انہوں نے کہاکہ حق دو تحریک پرامن وجمہوری تحریک ہے اس جدوجہد کے دوران ہم نے تاریخی ریلیاں نکالے ہیں،دھرنے دئیے ہیں مگر کوئی گلاس بھی نہیں ٹوٹا ہے، انہوں نے کہاکہ عیدکے بعد تربت میں بلوچستان کی تاریخی ریلی نکالی جائے گی اور کیچ انتظامیہ جو سمجھتی ہے کہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں اسے دکھادیں گے یہ مٹھی بھر لوگ ہیں یا یہاں کے عوامی قوت ہمارے ساتھ ہے، ریلی کی تاریخ کااعلان جلد کیاجائے گا، اس لئے افسران افسران رہیں آقانہ بنیں اور چوکیدار چوکیداربنے مالک نہ بنیں، انہوں نے کہاکہ ہم کسی پارٹی یا شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ ظالمانہ وکرپٹ سوچ کے خلاف ہیں،یہ تشدد، مقدمات اورگرفتاریاں سرزمین وعوام کی اس جدوجہد میں کچھ بھی نہیں اس راہ میں ہرقسم کی قربانیوں وجدوجہد کیلئے حق دو تحریک کے قائدین اورکارکنان تیار ہیں، سرزمین وعوام کیلئے پھانسی کے پھندے کو چھومنابھی سعادت سمجھتے ہیں، انہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد کے ذمہ داراں، ٹرالرز مافیا، ڈرگ مافیا اوربھتہ خوری کے سرپرست حق دوتحریک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں مگر عوامی قوت کے ساتھ تمام تر سازشوں کامقابلہ جمہوری انداز میں کریں گے، انہوں نے کہاکہ انتظامیہ وضاحت کرے کہ کارسرکار کی تعریف کیاہے، بھتہ خوری کارسرکار ہے، کرپشن اور غنڈہ گردی کارسرکارہے توہم اس میں مداخلت اور رکاوٹ بنیں گے اوراسی کارسرکار کے جرم میں حق دو تحریک کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات بنائے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں