کوئٹہ چمن شاہراہ پر بھتہ گیری اور اغوا کا تدارک کیا جائے، بلوچستان گڈز ٹرک اونرز یونین
چمن (انتخاب نیوز) بلوچستان گڈز ٹرک اونرز ایسوسی ایشن اور فریش فروٹ کیرئیر ٹرالر ایسوسی ایشن کے رہنما حاجی عبدالعلی اچکزئی نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کوئٹہ چمن شاہراہ پر آزادانہ بھتہ خوری، گاڑیوں کی مبینہ اغوا اور انتظامیہ کی جانب سے تحفظ فراہم نہ کرنے کے خلاف کل بروز بدھ سے کوئٹہ چمن شاہراہ درہ کوژک کے مقام پر مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے انھوں نے کوئٹہ چمن کے درمیان سفر کرنے والے تمام مسافروں سے کل سفر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ جب تک انکے مطالبات حل نہیں کئے جاتے پہیہ جام ہڑتال جاری رہیگا انھوں نے کہا کہ انکو درپیش مسئلے کے متعلق صوبہ کے تمام ذمہ دار احکام تک معاملہ پہنچانے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہورہی بلکہ الٹا انکی گاڑیوں کو بھتہ نہ دینے پر جنگل پیر علی زئی کے مقام سے انکے 6 لوڈ ٹرالر اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے جسمیں کروڑوں روپوں کا فروٹ لدھا ہوا ہے۔ قلعہ عبداللہ انتظامیہ کاروائی کی بجائے معاملے کو پشین کے ایریا میں پیش آنے کا ڈرامہ کررہے ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک عمل ہیں۔انہوں نے کہا کہ انکے ٹرالر بحفاظت بازیاب کرانے کے ساتھ ساتھ جب تک انہیں کوئٹہ چمن شاہراہ پر اسلحہ بردار بھتہ خوروں سے نجات نہیں دلائی جاتی وہ احتجاج جاری رکھینگے جبکہ دوسری جانب فرش فروٹ کلیرنگ ایجنٹس کی جانب سے بھی پریس کلب چمن میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کیا گیا جس میں انہوں نے کوئٹہ چمن شاہراہ پر قائم یونینز کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے حکومت بلوچستان سے اپیل کی انہیں کوئٹہ چمن شاہراہ پر محفوظ تجارت کرنے کی ضمانت دی جائے اور قائم یونینز کو فوری طور پر ختم کیا جائے ان کا مزید کہنا تھا یونینز کی آپسی لڑائی میں نقصان فرش فروٹ اور کلیرنگ ایجنٹس کا ہو رہا ہے جس پر انتظامیہ سمیت کسی بھی طرف سے کوئی توجہ نہیں دیا جا رہا جیسے ہم فرش فروٹ کی تجارت کرنے والوں کے ساتھ ناانصافی سمجھتے ہیں انہوں نے یہ واضع کرتے ہوئے کہا کہ آج کہ بعد فرش فروٹ کلیرنگ ایجنٹس کسی بھی قسم کے یونین کو بھتہ نہیں دینگے اس بارے میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن و دیگر حکومتی ارکان کو بھی آگا کیا گیا ہے جس کے بعد بھی ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی 2 سالوں سے ہمیں یونینز کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے ان مشکلات کی وجہ سے ہمارا 70 فیصد مال تورخم بارڈر سے آتا ہے چمن کے راستے پر ہم اس لیے مال نہیں لاتے کہ یہاں پر یونینز کے مسائل بہت زیادہ ہے ہمارا حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ ہمیں ان یونینز وغیرہ سے نجات دلائے ہمارے مطالبات پر اگر غور نہ کیا گیا تو ہم بھی احتجاجی کا راستہ اختیار کرینگے جس کی ذمہ داری حکومت بلوچستان پر عائد ہو گی۔


