جعلی مقابلوں میں بلوچ لاپتہ افراد کو مارا جانا باعث تشویش ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی
تربت (انتخاب نیوز) بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کی جانب سے ہفتہ کے روز زیارت میں مبینہ لاپتہ افراد کی حراستی قتل کے خلاف ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیاگیا، ریلی کا آغاز عطاشاد ڈگری کالج تربت سے ہوا، ریلی کے شرکاء نے مختلف شاہراہوں پر گشت کرتے ہوئے لاپتہ افراد کو جعلی مقابلہ کے ذریعے مارنے کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے شہید فدا چوک تربت پر احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرہ سے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان مکران ڈویڑن کے کوآرڈی نیٹر ومعروف بلوچ ادیب ودانشور پروفیسر غنی پرواز نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کامعاملہ ایک سنگین وحساس نوعیت کامعاملہ ہے اور یہ معاملہ لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کے اداروں کے لیے باعث تشویش ہے جعلی مقابلوں کے ذریعے لاپتہ افراد کو مارا جارہاہے جس کی ہم نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارنے کے عمل کو روکنے کامطالبہ کرتے ہیں، لاپتہ افراد کے معاملے کو حل کرکے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیاجائے اور تمام لاپتہ بلوچ اسیران کو بازیاب کیاجائے، انہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارنے کا سلسلہ کوئی نیا سلسلہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی جب مسلح تنظیموں کی جانب جب کہیں پر حملہ ہوا ہے تو حملہ آوروں کومارنے کے بجائے لاپتہ افراد کو مارتے ہوئے انہیں شدت پسند اور مسلح تنظیموں کا رکن ظاہرکیا جاتاہے جو سیکیورٹی اداروں کی ناکامی ہے، انہوں نے فوج وسیکورٹی اداروں سے اپیل کی کہ اگر وہ حالات کی بہتری چاہتے ہیں تو حالات کی بہتری کاطریقہ یہ نہیں ہے بلکہ حالات کو سازگار بنانے کیلئے تمام لاپتہ افراد کوبازیاب کیاجائے اورمارنے ولاشیں گرانے کا سلسلہ بند کرکے مذاکرات کاطریقہ اختیارکیاجائے، اس موقع پر لاپتہ طالب علم فیروز بلوچ کے والد نوربخش بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ پولیس میں ملازم ہیں، ان کے بیٹے نے 2021ء میں راولپنڈی کے یونیورسٹی میں داخلہ لیا وہ یونیورسٹی کے حاضرباش طالب علم ہیں اس سال مئی کے مہینے میں انہیں پنڈی سے لاپتہ کیا گیا 2ماہ 10دن سے وہ لاپتہ ہیں تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں،میں پولیس افسران کے تعاون سے اسلام آباد اور راولپنڈی بھی گیاہوں میرا بیٹا بے قصور ہے اگرپھر بھی ان کاکوئی قصور ہے یاکسی منفی سرگرمی میں ملوث رہاہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ چیف جسٹس اور آرمی چیف میرے بیٹے کو بازیاب کرائیں، احتجاجی ریلی سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کیچ کی رہنماء بانک سہتی بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کی جانب سے بلوچستان کے طول وعرض میں گزشتہ کئی سال سے لاپتہ افراد کو قتل کرنے کا سلسلہ جاری ہے جو سراسر ظلم ہے ریاست عوام کی تحفظ کرے اور تمام لاپتہ اسیران کو بازیاب کرے، اس موقع لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچستان میں ہونے والے مظالم کے خلاف نعرے بازی کی گئی جبکہ آخرمیں بلوچستان پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنے کے لیے ٹیبلو پیش کیاگیا۔


