بلوچستان میں لا پتہ افراد کا مسئلہ روزبروز الجھ رہا ہے، پیپلز پارٹی
بسیمہ (انتخاب نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی رخشان ڈویژن کے صدر نعیم بلوچ نے آن لائن بسیمہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا بلوچستان میں لا پتہ افراد کا مسئلہ سلجھنے کے بجائے روزبروز الجھ رہا ہے، برسوں سے لاپتہ افراد کے لواحقین روڈوں پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اسلامی جمہوری پاکستان کی مقتدار قوتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، حکمرانوں کی بے بسی آئین اور قانون پر عملداری نہ ہونے سے مسائل جنم لے رہے ہیں، ریاست کے اندر قانون اور آئین سے بالاتر ایک الگ ریاست قائم ہے جمہوریت اور سیاست کا بلوچستان میں تماشا لگا ہوا ہے، چند لوگوں کی مرضی سے یہاں حکومتیں بنتی اور گرتی ہیں، سیاست دفن ہو چکی ہے، سیاسی کارکنوں کا راستہ روکا جاتا ہے یا انہیں بے دردی سے مار دیا جاتا ہے۔ زیارت واقعے کے بعد پورے صوبے میں لاپتہ افراد کے عزیز رشتہ داروں میں ایک خوف پایا جاتا ہے کہ ان کے پیاروں کو کہیں جعلی مقابلوں میں مار کر کہیں پھینک نہ دیں۔ اس سلسلے میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ بلوچستان میں لگی آگ کو بجھانے میں مدد ملے لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جاسکے ریاست کے مجرموں کو عدالتوں میں پیش کرکے ان کو قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں لاپتہ کرنا ان کو مار کر پھینک دینے سے بلوچستان میں آگ مزید بھڑک جائے گی، لاشیں اٹھاتے ہوئے لوگ تھک چکے ہیں، مزید لاشیں اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے، اگر یہ آگ اور خون کی ہولی جاری رہی تو یہ سب کچھ تباہ کر دے گی، نفرتوں میں مزید اضافہ ہوگا، دوریاں بڑھتی جائیں گی، مقتدر قوتوں کو سنجیدگی سے مسائل حل کرنے چاہئیں، پرامن بلوچستان سے پاکستان کا ترقی اور امن وابستہ ہے جب تک امن نہیں آئے گا لاپتہ افراد واپس گھر نہیں لوٹیں گے تو اس آگ کے شعلے مزید بلند ہوتے جائیں گئے خداراہ یہ آگ اور خون کی کھیل کا ہولی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے۔


