پنجگور میں لوٹ مار اور قتل و غارت تسلسل سے جاری ہے، آل پارٹیز

پنجگور: آل پارٹیز پنجگور و جسٹس فار دادجان عنایت یکجہتی کمیٹی کی جانب سے مدرسہ عربیہ اسلامیہ تعلیم القرآن چتکان پنجگور میں بے امنی، چوری، ڈکیتی، چادر و چار دیواری میں گھس کر مسلح جتھوں کی لوٹ مار، دادجان عنایت کے قاتلوں کی عدم گرفتاری و دیگر وعدے آل پارٹیز کے ساتھ کئے گئے تھے، انتظامیہ کا وعدہ وفا نہ ہونے و بارشوں سے متاثرہ خاندانوں کی سہولیت نہ ملنے و دیگر مسائل کے حوالے سے ایک اجلاس آل پارٹیز و بی این پی کے مرکزی رہنما میر نذیر احمد کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں نیشنل پارٹی، بی این پی، مسلم لیگ ن، حق دو تحریک، مارس فاؤنڈیشن، اینٹی ڈرگ سوسائٹی، سول سوسائٹی پنجگور اور انجمن تاجران و دیگر سماجی تنظیموں و شخصیت کے ساتھ لاپتہ افراد کے لواحقین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر آل پارٹیز کے چیئرمن و بی این پی کے مرکزی رہنما میر نذیر احمد و سابق چیئرمین آل پارٹیز و جمعیت علمائے اسلام کے ضلعی امیر حافظ محمد اعظم بلوچ، سماجی شخصیت عادل ارباب، آل پارٹیز کے وائس چیئرمین و مسلم لیگ ن مکران کے صدر اشرف ساگر، حق دو تحریک کے ڈپٹی آرگنائزر ملا فرہاد، اینٹی ڈرگ و سول سوسائٹی کے حاجی افتخار بلوچ، مارس فاؤنڈیشن کے حاجی عبدالعزیز بلوچ، مولوی علی احمد، جماعت اسلامی کے حافظ صفی اللہ، سول سوسائٹی کے صمد صادق ودیگر معتبرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجگور میں چوری، ڈکیتی، لوٹ مار، بے گناہ غریبوں کا کشت و خون تسلسل کے ساتھ جاری ہے، ہم نے جمہوریت کے ساتھ چلنا ہے لیکن جمہوریت چلانے والے خود جمہوریت ماننے کو تیار نہیں۔ داد جان عنایت و دیگر کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے ہم نے تمام سیاسی جمہوری راستہ اختیار کرتے ہوئے تاریخی پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا ہر ممکن کوشش سے ہم نے اپنے جائز قانونی آئینی حق مانگے، دس دن ڈپٹی کمشنر آفس پنجگور کے سامنے دن رات دھرنا دیا، دو تین دن تک سی پیک روڈ پر بیٹھ کر دن رات تمام تکالیف برداشت کرتے ہوئے پرامن احتجاج کیا، کسی کو ایک ذرے کا نقصان نہیں دیا، احتجاج کے مطالبے ماننے کیلئے خود کمشنر مکران شبیر احمد مینگل، ڈپٹی کمشنر پنجگور، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عنایت اللہ بنگلزئی، ڈسٹرکٹ و تحصیل اے سیز ودیگر ذمہ داروں نے تحریری صورت میں احتجاجی ڈیمانڈ پر عملدرآمد کرانے کی یقین دہانی کرائی لیکن آج تک ان میں کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے، پولیس وانتظامیہ کی جانب سے عوام کے تحفظ کے حوالے سے عملی صورت میں کچھ دکھائی نہیں دے رہا، جس سے ہم مطمئن ہوں۔ گزشتہ دنوں پنجگور کی ماہر تعلیم فرزانہ ہاشم جمیل بلوچ کے گھر پر درجنوں مسلح افراد کا گھسنا، چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی، لوٹ مار افسوس کا مقام ہے۔ پنجگور میں کئی لوگ لاپتہ ہیں کسی کو خبر نہیں ہے کہاں گئے، زمین کھا گئی، آسمان نگل گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور انتظامیہ ہر طرف ہر مسئلے پر واضح طور پر ناکام نظر آرہی ہے، یوں لگ رہا ہے پنجگور کے جملہِ مسائل کا حل انتظامیہ کے بس کی بات نہیں، بہتر یہی ہے کہ وہ خود اقرار کرکے پنجگور سے چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور میں حالیہ بارشوں اور سیلاب متاثرین آج بھی بے یارو مددگار ہیں پنجگور کی خواتین کو سڑکوں پر جمع کرنا روایات کے خلاف ہے، رات کے دس دس بجے عورتوں کا راشن کے نام پر انتظامیہ کے لیے منتظر رہنا قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان و وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والی سہولت و ضرورت کے سامان راشن انتظامیہ کے گودام میں سڑ رہے ہیں لیکن متاثرہ لوگوں کو نہیں مل رہے۔ غریبوں، مسکینوں کے امدادی سامان کی بندر بانٹ ہورہی ہے اور اصل حقدار و متاثرین محروم ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایسی زندگی بسر کررہے ہیں کہ اب پنجگور کے حالات برداشت سے باہر ہوچکے ہیں سب کو مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا چاہیئے یا سب کو اپنے نمبر کا انتظار کرنا چاہئے کہ کب ہم لٹ جائیں یا مارے جائیں۔ آخر میں انہوں نے آل پارٹیز و جسٹس فار داد جان عنایت یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ایک گرینڈ اجلاس یکم اگست کو مولوی علی احمد مدرسے میں منعقد کرنے کا اعلان کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں