انجینئر ظہیر بلوچ کے لاپتہ ہونے کے ثبوت ان کی فیملی نے فراہم کیے تھے، ایڈووکیٹ عمران
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ لاپتہ افراد کے وکیل ایڈووکیٹ عمران نے انجینئر ظہیر بلوچ کے حوالے سے منظر عام پر آنے کے بعد اپنے آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اپریل 2018ء میں ظہیر بلوچ کے بھائی ڈاکٹر بشیر اور ایک اور بھائی انجینئر خورشید کو جولائی میں خضدار سے اٹھایا جاتا ہے۔ ان کو شو نہیں کیا جاتا۔ مجھے ظہیر کی فیملی نے بتایا کہ دو مہینے کے بعد جب ان دنوں ظہیر اسلام آباد میں پڑھ رہا ہوتا ہے تو انہوں نے کہا کہ آپ کا بھائی ظہیر کہاں ہے آپ کے بھائی پر الزام ہے، ظہیر کو بلا کر ہمارے سامنے پیش کریں تو ہم آپ کو چھوڑ دیں گے، ظہیر کے بھائیوں نے ان سے کہا کہ اگر یہ بات تھی تو آپ پہلے بتاتے ظہیر تو پاکستان میں ہے ہم آپ کے سامنے پیش کردیتے۔ اس کے بعد یہ ظہیر کے بھائیوں کو چھوڑ دیتے ہیں، ایک ہفتے کے اندر یہ ظہیر کو بلاتے ہیں، ظہیر کو لے کر جاتے ہیں اور اسے پیش کرتے ہیں جسے وہ مطلوب ہوتا ہے تحقیقات کیلئے، ظہیر کو وہ ایک ہفتے اپنے پاس رکھتے ہیں پھر وہ کہتے ہیں ہمیں غلطی ہوئی آپ کو اور آپ کے بھائیوں کو ہم نے غلطی سے اٹھایا اور کہتے ہیں کہ آپ لوگ آزاد ہیں۔ یہ باتیں ان کی فیملی نے ود ڈاکومنٹ میرے ساتھ شیئر کیں۔ اس کے بعد وہ ظہیر کو کہتے ہیں کہ آپ نے جانا نہیں ہے، ہم ہفتے میں دس دن میں آپ کو بلائیں گے آپ کی حاضری لگے گی۔ ظہیر کہتا ہے کہ میں طالب علم ہوں غریب ہوں، میرے مستقبل کا مسئلہ ہے میں اوور ایج ہورہا ہے، میرے خلاف کوئی الزام ہے تو کارروائی کی جائے میں آپ لوگوں کے سامنے ہوں۔ ظہیر نے انہیں کہا کہ مصر کی ایک کمپنی جو کوئٹہ میں ہے جاب آئی ہیں میں اس میں نوکری کرنا چاہتا ہوں، آپ لوگ اجازت دیں تو میں نوکری کرلوں، ان لوگوں نے اسے اجازت دی اور ظہیر کوئٹہ آکر اس کمپنی کو جوائن کرکے تقریباً ایک سال نوکری کرتا ہے۔ اس کے بعد 7 اکتوبر 2021ء کو ایئرپورٹ روڈ سے ظہیر کو لاپتہ کردیا جاتا ہے۔


