سیلاب سے نقصنات کی ذمے داری ڈپٹی کمشنر لسبیلہ پر عائد ہوتی ہے، جام کمال

وندر (انتخاب نیوز) سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی نے اپنے دورہ وندر کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع لسبیلہ کی حالیہ سیلابی صورتحال کے باعث ہونے والی تباہی کے ذمہ دار ڈپٹی کمشنر لسبیلہ ہیں قدرتی آفات اللہ کی جانب سے آتی ہیں مگر بروقت اور بہتر اقدامات نہ کرنے کے باعث جانی و مالی نقصانات ہوئے صحافیوں کی جانب سے کیے گئے سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ بیس پچیس دنوں سے جاری مون سون کی موسلادھار بارشوں کی پیشنگوئی پہلے ہی محکمہ موسمیات کی جانب سے کی گئی تھی مگر ضلع لسبیلہ کی نااہلی کے باعث اور بروقت حفاظتی اقدامات نہ کرنے کے سبب ضلع لسبیلہ میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئےؑ انہوں نے کہا کہ یوں تو صوبے بھر میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے مگر صوبے کے دیگر اضلاع کی نسبت ضلع لسبیلہ میں لاڈلے ڈپٹی کمشنر کی نااہلی اور چند لوگوں کی جی حضوری کی وجہ سے اور بروقت حفاظتی اقدامات نہ کرنے کے باعث ضلعے بھر میں سیلابی ریلوں میں پھنس کر متاثر ہونے والے متاثرین کی بحالی اور ان کو ریسکیو کرنے میں وقت لگا جس کی وجہ سے زیادہ نقصانات ہوئے انہوں نے کہا کہ بھوتانی صاحبان کی جانب سے ایک نااہل ڈپٹی کمشنر کا آنکھیں بند کرکے سپورٹ کرنے کی وجہ سے آج ہمیں اس قدر نقصانات کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ وزیر بلدیات و صوبائی سینئر وزیر نے محکمہ بلدیات کی کارکردگی کو بری طرح سے متاثر کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے دورِ حکومت میں جب ناگہانی آفات آئی تو ہماری کابینہ میں شامل جملہ محکموں کے وزرا متاثرہ اضلاع میں دورے کر کے عوام کی دلجوئی کرتے ہوئے دکھائی دیئے مگر موجودہ حکومت کے وزرا اپنے اپنے حلقہ انتخاب تک محدود دکھائی دے رہے ہیں بلکہ بیشتر صوبائی وزرا تو اپنے اپنے محکمے کے دفاتر تک محدود ہیں انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر بلدیات محمد صالح بھوتانی جس طرح ایک انڈر ٹرانسفر ڈپٹی کمشنر کی تعیناتی کو لیکر اس کی مکمل طور پر سپورٹ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ضلع کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے عمل کی مخالفت اسی لیے کر رہے تھے تاکہ کسی ایک کی اجارہ داری قائم نہ ہو انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کی نااہلی کے باعث لسبیلہ میں جو جانی و مالی نقصانات ہوئے ان کی تمام تر ذمے داری ڈپٹی کمشنر لسبیلہ اور ان کو لانے والوں پر عائد ہوتی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محکمہ ایریگیشن کے وزیر پورے صوبے کے وزیر ہیں انہیں چاہیے کہ کوئٹہ سے باہر اور لسبیلہ جیسے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں اور اپنے محکمہ کے آفیسران کی کارکردگی کا جائزہ لیں صوبے کے دس اضلاع میں سب سے زیادہ ضلع لسبیلہ حالیہ سیلابی صورتحال کے باعث شدید طور پر متاثر ہوا ہے اسی وجہ سے لسبیلہ کو مکمل طور پر آفت زدہ قرار دیا گیا وزیر اعلی بلوچستان نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ضلع کا فضائی معائنہ بھی کیا تھا مگر ایک نااہل ڈپٹی کمشنر کی نااہلی کی وجہ سے ضلع کے عوام کو بروقت سیلاب زدہ علاقوں سے ریسکیو کرکے محفوظ مقامات تک پہنچانے کے عمل میں دیر ہوئی جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصانات میں اضافہ ہوا جس کی تمام تر ذمہداری ان پر اور ان کو لانے والوں پر عائد ہوگی انہوں نے کہا کہ لسبیلہ میں اللہ تعالی کی جانب سے بھی آزمائش ہے مگر اس میں ڈپٹی کمشنر کی نااہلی شامل ہے انہوں نے کہا کہ حب ڈیم سے لیکر کشاری کنر تک سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کی کارکردگی کا جائزہ لیں اور اپنے وزرا کو بھی کوئٹہ کے دفاتر سے باہر نکلنے کی بھی ہدایات جاری کریں تاکہ وہ عوام کے درمیان میں جاکر ان کو درپیش مسائل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں انہوں نے کہا کہ میرے رابطہ کرنے پر کمشنر قلات ڈویژن نے لسبیلہ کا دو مرتبہ دورہ کیا اور سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات تک پہنچانے کے عمل میں تیزی لائی گئی اور لوگوں کو ایم ایم ڈی اور دیگر وفاقی و صوبائی اداروں نے متاثرین کی بحالی اور ان کو راشن کی سپلائی کو ممکن بنایا انہوں نے کہا کہ ضلع لسبیلہ کے سیلاب سے متاثر والوں کو ہونے والی نقصانات کے ازالے کیلیے میں نے رابطہ کیا ہے ان شااللہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی جانب عملی اقدامات کیے جائیں جبکہ اقلیتی برادری وندر کے مکھی ونود کمار پوامل پشامل کملیش نریش کمار و دیگر نے ہندو محلہ کی بچا بند متاثر ہونے کے متعلق آگاہ کیا جس پر جام کمال خان نے کہا کہ اس کے متعلق جلد محکمہ ایریگیشن کے ایکسیئن دورہ کریں گے۔ اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سابق وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی وندر محمد اسلم سوری نے ان کو وندر ندی کی آبی گزر گاہ میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بارے میں بریفنگ دی جبکہ اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی ڈام کے صدر حاجی محمد الیاسانی حاجی کریم بخش حبیب اللہ جمن انگاریہ غلام رسول آچرہ اقلیتی برادری کے مکھی ونود کمار لاسی سیٹھ پوامل پشہ مل و دیگر ان کے ہمراہ تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں