سوشل میڈیا پر دکھائے گئے بچے کی لاش نوشہرہ سے ملی، ترجمان حکومت بلوچستان
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ترجمان حکومت بلوچستان نے صوبہ بلوچستان میں حالیہ سیلابی بارشوں کی صورتحال کے تناظر میں سوشل میڈیا پر وائرل بعض تصاویر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دریا کنارے ایک کمسن بچے کی لاش نوشہرہ میں دریائے کابل کے کنارے سے ملی ایک اور تصویر جس میں کشتی میں ایک بوڑھا شخص اپنے خاندان کے ساتھ ہے یہ تصویر 2014 میں جھنگ میں آنے والے سیلاب کی ہے جو کہ اس وقت مختلف اخبارات میں شائع ہوئی جبکہ ایک ٹصویر جو سیلاب سے جانبحق 4 لڑکوں کی لاشوں کی ہے اسکا تعلق ایران سے ہے اور یہ تصویر 2019 میں اخبارات میں شائع ہو چکی ہے ترجمان نے سوشل میڈیا پر ان تصاویر کا تعلق بلوچستان کے حالیہ سیلاب سے جوڑنے کی کوششوں کو قابل مزمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیمار ذہنیت کے حامل عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا پر اس قسم کے منفی اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کا مقصد سیلاب سے متاثرہ افراد کو ریسکیو کرنے اور امدادی سرگرمیوں کے لئے صوبائی حکومت اور اسکے اداروں کی دن رات جاری کاوشوں کو ناکام بنانا اور صوبائی حکومت کو بدنام کرنا ہے ترجمان نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ان تصاویر کی بنیاد پر ڈوبتا بلوچستان خاموش انتظامیہ کے ٹرینڈ کو سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی بد ترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ٹرینڈ کو چلانے والے بلوچستان اور یہاں کے عوام کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ترجمان نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے زخموں پر مرہم رکھنے حکومتی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور انکی ہمت بڑھانے کے علاوہ پوری قوم کو آگے بڑھ کر متاثرین کی امداد بحالی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا جزبہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جسکے لئے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمزکو موثر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے بجائے اسکے کہ سوشل میڈیا پر منفی ٹرینڈ کے زریعہ لوگوں کو گمراہ کیا جائے۔


