بلوچستان میں دوران زچگی اموات، قانون سازی کی ضرورت ہے، ڈاکٹر ربابہ بلیدی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) پارلیمانی سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دوران زچگی اموات میں خطرناک اضافہ باعث تشویش ہے صوبے میں زچگی کے دوران شرح اموات ایم ایم آر650 فیصد سے زیادہ ہے، جو قومی اوسط سے دوگنا اور پاکستان کے کسی بھی دوسرے صوبے سے کافی زیادہ ہے۔ اس تشویش ناک صورتحال کے ادارک کے لئے مسودہ قانون کی تشکیل پر کام جاری ہے اور محکمہ صحت کی جانب سے ضروری امور کی انجام دہی کے بعد اسمبلی سیکرٹریٹ سے قائمہ کمیٹی کی جامع سفارشات سے یہ بل قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کوئٹہ کے ریجنل ہیڈ ڈاکٹر اسفند یار شیرانی، کنسلٹنٹ انم عارف، ایم این سی ایچ بلوچستان کے ڈپٹی ہیڈ ڈاکٹر سرمد سعید سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے بلوچستان میں دوران زچگی شرحِ اموات کی روک تھام کیلئے مجوزہ مسودہ قانون سے متعلق پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے ملاقات کی اور ابتک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کا قد اور نشونما رک جانے کی شرح دنیا میں بلند ترین شرحوں میں سے ہے۔ یہ غذائی کمی کی علامت ہے۔ وہ بچیاں جو بچپن میں غذائی قلت کا شکار ہوتی ہیں، اس جسمانی عارضے کو درست کرنے کے کسی بحالی پروگرام سے گزرے بغیر بچوں کو جنم دیتی ہیں۔اس سے حاملہ ماں اور نوزائیدہ بچے، اور نتیجتاً پورے گھرانے کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ غربت کی وجہ سے محدود وسائل اور حاملہ خواتین کی غذائی ضروریات کے متعلق عدم آگاہی کی وجہ سے حاملہ خواتین میں وزن کم بڑھتا ہے۔ چنانچہ غذائی قلت کی شکار خواتین ایسے بچوں کو جنم دیتی ہیں جو چھوٹے اور کمزور ہوتے ہیں، اور معمولی بیماریوں کی وجہ سے بھی موت کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ دوران زچگی شرحِ اموات کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ڈبلیو ایچ او کی تیکنیکی معاونت کو سراہتے ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے مجوزہ مسودہ قانون ضروری کارروائی کے بعد جیسے ہی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بھیجا جائیگا اس پر اتفاق رائے سے مثبت تجاویز دیکر محکمہ قانون میں ویٹ کیا جائیگا اور ہماری کوشش ہوگی اہم نوعیت کی اس قانون سازی پر جتنا جلدی ممکن ہوسکے حتمی مراحل طے کئے جائیں۔


