ایران پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ سے نکالنے کے مطالبے سے دستبردار
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں ایک سینئر امریکی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے باضابطہ طور پر پاسداران انقلاب کو کالعدم فہرست سے نکالنے کا مطالبہ ترک کردیا ہے۔ اس سے قبل ایران کی طرف سے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں میں یہ ایک اہم نکتہ تھا۔ اہلکار نے امریکی ٹی وی کو بتایا کہ تہران نے یورپی یونین کی جانب سے 2015 ء کے معاہدے کو بحال کرنے کی تجویز کے جواب میں پاسداران انقلاب کو کالعدم فہرست سے نکالنے کا مطالبہ نہیں کیا جو اس کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متن کا موجودہ ورژن اور جو کچھ وہ مانگ رہے ہیں اس سے اس مطالبے کو ختم کردیا گیا ہے۔ امریکا بارہا اس درخواست کو مسترد کرچکا ہے۔ لہٰذا اگر ہم کسی معاہدے کے قریب ہیں تو اسی لیے ایران نے اس مطالبے کو مزید نہیں دہرایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران نے پاسداران انقلاب سے منسلک کئی کمپنیوں کو کالعدم فہرست سے نکالنے کے اپنے مطالبات کو ترک کردیا ہے۔ اہلکار نے زور دے کر کہا کہ صدر اس بات پر پختہ تھے کہ وہ آئی آر جی سی کو کالعدم فہرست سے نہیں نکالیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا جب کہ یہ معاہدہ اب دو ہفتے پہلے کے مقابلے میں قریب تر ہے، لیکن نتیجہ اب بھی غیر یقینی ہے، کیونکہ ابھی بھی کچھ خلا باقی ہیں۔ صدر بائیڈن صرف اس معاہدے پر راضی ہوں گے جو ہماری قومی سلامتی کے مفادات کو پورا کرے۔


