قلات، بولان میں بارش سے کچے مکانا ت منہدم، مانجھی پور میں سیلاب سے سیکڑوں دیہات صفہ ہستی سے مٹ گئے

قلات، بولان، مانجھی پور (انتخاب نیوز) قلات، بولان، مانجھی پور میں بارشوں سے تباہی، متعدد کچے مکانات زمین بوس، درجن سے زائد بجلی کے کھمبے گر گئے، مانجھی پور میں سیلاب نے تباہی مچا دی، سیکڑوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ قلات میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی۔ بپھرے ندی آبادی کو بہا کر اپنے ساتھ لے گئے درجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے ایک درجن سے زیادہ بجلی پول گر گئے بجلی کا نظام در ہم بر ہم ہو گیا۔قلات میں گزشتہ 24 گھنٹوں سے جاری رہنے والی بارشوں نے تباہی مچادی بپھرے زاو ہ ندی کی سیلابی پانی غریب آباد مغلزئی یالو مقصود آباد اور دیگر علاقوں میں مکانا تنکوں طرح ریلہ میں بہہ گئے علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت خواتین بچوں بوڑھوں کو محفوظ مقامات منتقل کردیئے۔سیلا ب سن کر جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل سینٹر مولانا عبدالغفور حیدری موقع پر پہنچ گئے اور متاثرین سے ملاقات کی اور جمعیت کے رضا کاروں کو متاثرین کی امداد کے لئے ہدایات دی طوفانی بارشوں سے کوئٹہ کراچی شاہراہ چھ گھنٹے سے زائد بند رہی گزشتہ رات غمگزار بجلی کی گیارہ ہزار کے وی کے تاریں لوگوں پر بھی گر گئے جس سے پانچ افراد زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گزشتہ رات کی بارشوں نے پینتیس سالہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ علاوہ ازیں بولان کچھی ڈھاڈر سمیت سبی مچھ میں گزشتہ دو روز سے جاری بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے سینکڑوں کچے مکانات منہدم ہوچکے ہیں عوام بے یار مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ڈھاڈر کے قریب دوپاسی لنک روڈ کا آخری حصہ بھی بولان کی سیلابی ریلے کی وجہ سے مہندم ہوچکا ہے جس سے مہرگڑھ،کوٹ رئیسانی، کوٹ مینگل،نوشہرو، گہی کوٹ کھائی سمیت دیگر علاقوں کا زمینی رابطے بھی منقطع ہوگئے ہیں ادھر بی بی نانی کا پل بھی سیلابی ریلے کی نزر ہوچکا جس سے سندھ پنجاب کا بلوچستان سے زمینی رابطہ بھی بند ہوا ہے بولان سیلابی ریلوں کی تباہ کاریاں جاری ہیں جس سے بولان قومی شاہراہ سراج آباد کے مقام پر بری طرح سے متاثر ہوکر تباہ برباد ہوچکاہے ڈھاڈر کے قریب مشکاف ڈیم جوکہ پہلے ہی چارہ حال تھا سے سیلابی ریلہ جاری ہونے سے مشکاف لنک روڈ کو بھی بہا کر کے گیا ضلع کچھی کے سینکڑوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں جبکہ جانی مالی نقصاناث کا فوری طور پر موبائل نیٹ ورک بند ہونے سے معمولات لینے میں دشواری کا سامنا ہے ڈھاڈر میں متعدد قریبی دیہات سیلابی ریلوں کی نزر ہوگئے عوام اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں تاریخ کی بدترین سیلاب نے ہر طرف تباہی مچادی ہے۔ مانجھی پور حیردین فرید آباد، پہنور سنہڑی، دولت گھاڑی، حامد پور،کنرانی بیلٹ، گوراناڑی سمیت پورا ضلع صحبت پور میں حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی ہزاروں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ضلع صحبت پور میں قیامت صغراں کے مناظر ہیں پورا علاقے میں 8 سے 9 فٹ تک پانی جمع ہوگیا اور مختلف نہروں اور علاقوں سے آنے والے سیلابی پانی کا بھی ضلع صحبت پور میں داخل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے پورا ضلع صحبت پور سیلاب سے سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ہزاروں گھر منہدم ہوگئے مال مویشی سیلاب میں بہہ گئے فصلات تباہ ہوگئے ہزاروں بیگھر افراد روڈوں پر پڑے ہیں اور کچھ دیہاتوں میں لوگ تاحال سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں ان پھنسے لوگوں تک کوئی ریسکیو ٹیمیں نہیں پہنچی متاثرین کو کھانے پینے کی اشیاء تک نہیں متاثرین بھوک پیاس سے مر رہے معصوم بچے بوڑھے خواتین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوگئے کینالوں اور نہروں۔سیم شاخوں واٹر کورسوں کے لگے ہوئے شگاف تاحال پر نہیں کئے گئے ضلع صحبت پور کو سیلابی پانی نے چوروں طرف گھیر لیا ہے اس سیلابی صورتحال میں مانجھی پور میں تحصیل دار اپنے آفیس سے غائب ہیں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے بیگھر افراد حکومتی امداد کے منتظر ہیں رپورٹ کے مطابق ضلع صحبت پور کے تحصیل مانجھی پور۔حیردین۔حامد پور۔پہنورسنہڑی۔بھنڈ شریف مہیو پور۔مراد علی دولت گھاڑی۔گوٹھ عبدالمجید کھوسہ۔فریدآباد۔گوٹھ حاجی بہرام خان کھوسہ۔کوٹ لاشاری۔گوٹھ صوبدار خان کھوسہ نورن۔گوٹھ غلام مصطفی کھوسہ۔کنرانی بیلٹ۔گوٹھ دربھانی۔ملیر۔جمعدار امام الدین رئیسانی۔گوٹھ حاجی میوا خان کھوسہ راج واہ۔گوٹھ حاجی ہزار خان کھوسہ۔گوٹھ محمد آمین کھوسہ۔گوٹھ حاجی ولی محمد کھوسہ۔استاد عبدالحمید کھوسہ گوٹھ حاجی حمزہ خان کھوسہ۔گوٹھ شمس الحق خان کھوسہ۔گوٹھ میر واہی۔گوٹھ زرخان بگٹی۔محمد آمین مرہٹہ ودیگر علاقے طوفانی بارشوں اور سیلاب سے تباہ ہوگئے کچے مکانات منہدم ہوگئے ہزاروں لوگ بیگھر ہوئے ہیں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہورہے ہیں متاثرین کی کوئی پرسان حال نہیں خواتین بوڑھے معصوم بچے روڈز کے کناروں پر پڑے ہیں انتظامیہ کی جانب سے تاحال کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کی گئی بیگھر افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں متاثرین کے پاس کھانے پینے کے اشیاء تک نہیں معصوم بچے خواتین بوڑھے مختلف امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں کوئی علاج معالجہ نہیں صحت کے مراکز بھی سیلابی پانی سے بھر گئے ضلع صحبت پور میں تقریبا 90 فصید لوگ بیگھر ہوگئے مال مویشی سیلاب میں بہہ گئے ہزاروں ایکڑ پرکھڑی چاول کے فصلات اور گھربار تباہ ہوگئے ضلع صحبت پور کے عوام کی کوئی پرسان حال نہیں سیاستدان دور سے بھی نظر نہیں آرہے ہیں ضلع صحبت پور مانجھی پور ودیگر علاقوں کے عوام نے وفاقی و صوبائی حکومت ضلعی انتظامیہ سے ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں