بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور سیلاب، ہرنائی ریلے میں پھنسا شخص بہہ گیا، لاش برآمد
بیلہ، قلات، اوستہ محمد، ہرنائی (انتخاب نیوز) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور سیلابی ریلوں سے تباہی کا سلسلہ جاری، مختلف علاقوں میں بارش اور سیلابی پانی سے سیکڑوں مکانات اور دیواریں گر گئیں، فصلوں کو نقصان جبکہ متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ بھگیاڑی ڈھورا کے سیلابی پانی سے بوائز اور گرلز کالج زیرآب آگئے ایریگیشن کالونی و دیگر علاقوں میں بھی سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا تفصیل کے مطابق گزشتہ روز بھگیاڑی ڈھورا میں آنے والے سیلابی پانی سے گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج اور گورنمنٹ گرلز کالج میں پانی داخل ہو گیا علاہ ازیں محلہ ایریگیشن کالونی محلہ ٹیپ میار گوٹھ اور گدور گوٹھ کے مکین سیلابی پانی گھروں میں داخل کرنے کے سبب متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ بھگیاڑی ڈھورا کی عرصہ دراز سے صفائی اور جھاڑیوں کی کٹائی نہ ہونے کے باعث بھگیاڑی ڈھورا کا پانی نقصانات کا سبب بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ایریگیشن اور دیگر ذمہ داران کی مبینہ لاپروائی باعث تشویش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھگیاڑی ڈھورا کی صفائی اور گھنی جھاڑیوں کی کٹائی جلد ممکن بناکر مزید جانی اور مالی نقصانات سے مکینوں کو محفوظ کرنے کے عملی اقدامات کیے جائیں۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے دوسرے اضلاع کی طرح قلات میں شدید طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی، قلات شہر کے متعدد علاقے زیر آب، سینکڑوں مکانات و دیواریں گر گئیں، قلات میں مواصلاتی نظام درہم برہم، بجلی بند، ٹیلیفون و موبائل سروس مکمل منقطع، پینے کے پانی کی شدید قلت، متاثرین کے سامان راشن بستر بہہ گئے، سرکاری عمارتوں میں بھی پانی داخل، دیہی علاقوں کا قلات سے رابطہ مکمل منقطع، قلات میں گزشتہ 36 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی بارش کے بعد بندات ٹوٹنے و سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ضلع قلات کے مین ندی جو 1973 کے بعد یعنی50 سال بعد اس طرح کا سیلابی ریلہ آیا اسی سیلابی ریلے سے سٹی میں کلی غریب آباد، شادیزئی مغلزئی، کوہنگ، دشت مغلزئی، یالو سمیت شہر کے دیکر عکاقے گیاوان خارادان خیل گوم شیشہ ڈغار پس شہر شادیزئی میں تباہی مچا دی شادیزئی غریب آباد مغلزئی کوہنگ میں پانی گھروں میں داخل و سینکڑوں کچے مکانات مکمل گر گئے جبکہ سامان و مال مویشیاں بھی بہہ گئے جبکہ ڈسٹرکٹ قلات کے دیہی علاقوں میں بھی سیلابی ریلوں نے بڑی تباہی مچا دی دیہی علاقوں منگچر گرانی چھپر کپوتو نیمرغ نیچارہ محمد تاوہ چھپر اسکلکو شیخڑی جوہان گزگ نرمک سمیت دیگر دیہات بھی زیر آب آگئے جبکہ زمینداروں کے فصلات ٹیوب ویلز کا صفایا کر دیا ٹیوب ویل کھڑی فصلات سیلابی ریلے کے نذر ہوگئے ہر طرف پانی ہی پانی ہیں جبکہ 24 گھنٹے کے دوران نظام زندگی بری طرح متاثر بجلی گیس نیٹ ورک سمیت ہر چیز ناپید ہوچکی ہے مقامی انتظامیہ کو ریسکیو اور رابطہ کرنے میں دشواری کا سامنا ہوا متاثرین بے یارمددگار آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں مین ندی میں زیادہ پانی آنے سے مین آر سی ڈی شاہراہ کو بھی توڑ دیا جس کی وجہ سے کوئٹہ کراچی شاہراہ ہر ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، انتظامیہ نے متاثرین کو گرلز کالج و دیگر سرکاری اسکولوں کی عمارتوں میں پناہ دے دی۔دریں اثناء بلوچستان میں پہاڑوں سے آنے والا بارش کا پانی سیلابی صورت میں نصیرآباد پہنچ گیا، بابا کوٹ، فتح کوٹ سمیت کئی علاقوں کو لپیٹ میں لے لیا، اموات کا خدشہ۔ گزشتہ روز مسلسل بارش اور پانی کا سلسلہ دریائے بولان اور دیگر ڈیموں گھگھی، ناڑی بینک کا پانی تیزی سے نصیرآباد کے علاقے میں پہنچ گیا، سب سے زیادہ تحصیل بابا کوٹ، فتح کوٹ کو ہٹ کر رہا ہے جس سے کئی خاندان پھنسے ہوئے ہیں اور لوگوں کی اموات کا خطرہ ہے، علاقہ مکینوں نے مدد کی اپیل کی ہے۔ دریں اثناء ایریگیشن کالونی اوستہ محمد میں بارشوں کا پانی گھروں میں داخل ہونے لگا جس کی وجہ سے بیشتر گھر گرنے لگے۔ اہالیان محلہ گھروں میں محصور ہوگئے۔ جلد از جلد پانی نہیں نکالا گیا تو گھروں کے مزید گرنے اور بڑے جانی نقصان کا بھی خدشہ ہے۔ علاوہ ازیں ہرنائی میں گزشتہ روز سے سیلابی ریلے میں پھنسا شخص کئی گھنٹوں کی چیخ و پکار کے باوجود مدد نہ ملنے پر آج پانی کے تیز بہاؤ کی نذر ہوگیا۔ ہرنائی کے علاقے زردالو میں گزشتہ شام ایک شخص سیلابی ریلے میں پھنس گیا تھا، متاثرہ شخص لوگوں کو اپنی مدد کے لیے پکارتا رہا لیکن سیلابی ریلے کی وجہ سے کوئی اسے ریسکیو کرنے آگے نہ بڑھ سکا۔ گزشتہ شام مقامی انتظامیہ اور لیویز نے بھی نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ متاثرہ شخص کو ڈرون کے ذریعے خوراک بھی پہنچائی گئی۔ آج صبح کسی وقت متاثرہ شخص سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جس کی لاش نکال لی گئی۔


