نوشکی، جعفر آباد میں متعدد دیہات ڈوب گئے، ہرنائی میں زلزلے سے بیشتر مکانات منہدم، بچہ جاں بحق

نوشکی، جعفر آباد، ہرنائی (نامہ نگار، انتخاب نیوز) بلوچستان میں بارش اور سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، نوشکی میں متعدد دیہات ڈوب گئے، جعفر آباد میں فصلیں متاثر جانور پانی میں بہہ گئے، ہرنائی شہر اور مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، متعدد مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے، بچہ جاں بحق، دو افراد زخمی ہوگئے۔ نوشکی بور نالہ میں طغیانی سیلابی پانی اورفلو ہونے سے یونین کونسل ڈاک کے سات دیہات پانی میں ڈوب گئے ایک سو سے زائد افراد کو ہیلی کاپٹر کے زریعے ریسکیو کردیا گیا۔ بور نالہ میں طغیانی کے باعث پاک افغان باڈری علاقہ یونین کونسل ڈاک میں سات دیہات زیر آب آگئے اور بڑی تعداد میں لوگ سیلابی ریلے میں پھنس گئے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی حکومت اور پی ڈی ایم اے سے بذریعہ ہیلی کاپٹر سیلاب میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے کی مدد مانگنے پر صوبائی حکومت کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے نوشکی کے علاقے ڈاک میں پھنسے سو افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔ دریں اثناء جعفر آباد کے صدر مقام ڈیرہ اللہ یار اور گردونواح میں سیلابی ریلوں نے بڑی تباہی مچا دی ہے لوگوں کی جمع پونجی رقم کڑی فصلیں اور پالتوں جانوریں پانی کی نظر ہوگئے، ہزاروں کی تعداد لوگ بے گھر ہو کر روڈوں کے کنارے بے یارو مدد گار امداد کے منتظر ہیں۔ گوٹھ دوست علی بگٹی محلہ رسول آباد جتوئی و دیگر دیہات بھی پانی میں ڈوب گئے، کئی کچے مکانات گر گئے کافی مقدار میں لوگوں کا نقصان ہوا ہے۔ جعفر آباد کے صدر مقام ڈیرہ اللہ کے چاروں اطراف میں سیلابی ریلا نے اپنی لپیٹ میں لے لیا جسمیں شہید مراد کالونی، کرم شاہ کالونی، بگن بابا کالونی ڈی سی چوک بھٹی محلہ اے ون سٹی معشوک چوک و دیگر علاقہ ڈوب گئے۔ دوسری جانب سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے نہ ضلعی انتظامیہ اور نہ ہی صوبائی حکومت نے ریلیف کا کام شروع نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں ہرنائی میں تین ماہ کی بارشوں اور چار روز سے لگاتار بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، ہرنائی شہر اور مختلف کلیوں و دیہاتوں میں زلزلے سے کریک و شکستہ سینکڑوں مکانات گر کر ملبے کا ڈھیر بن بن گئے، مکانات گرنے سے ایک بچہ جاں بحق جبکہ 2افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ہرنائی شہر و ضلع بھر میں تین ماہ کی مسلسل اور چار روز وے لگاتار دن رات بارشوں نے تباہی مچا دی۔70 فیصد کچے مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔جبکہ جمعرات کی علی الصبح مکانات گرنے کے دوران شاہرگ میں ایک بچہ زندہ پیر میں ایک شخص زخمی اور سزو میں دس سالہ بچی جاں بحق ہوگئی۔زلزلے سے متاثرہ آسمان تلے ہزاروں لوگ امداد کے منتظر تھے لیکن حکومتی امداد سے محروم زلزلہ زدگان ایک بار بارش بارش اور سیلاب میں بے یارومددگار عزیمت کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔بارشوں نے تمام شکستہ اور کریک مکانات کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔حکومتی امداد سے محروم ہزاروں زلزلہ زدگان کے خیمے بھی اب صالم نہیں رہے ایک جانب بارش دوسری جانب مکان سے محروم متاثرین پر حکومت کب رحم کھائے گا۔دوسری جانب ہرنائی کی اہم شاہراہیں سیلابی ریلوں لینڈ سلائیڈنگ اور کھوسٹ کے مقام پر احتجاج کے باعث اشیائے ضرورت کی چیسیں روز بروز ناپید ہوتی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں