تنخواہ کیلئے ہر مہینے احتجاج کرنا پڑتا ہے، تالہ بندی جاری رکھیں گے، ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی یونیورسٹی آف بلوچستان کے زہراہتمام بروز سوموار کو جامعہ بلوچستان میں جامعہ کے اساتذہ کرام، آفیسران کو دو مہینوں کی مکمل تنخواہوں کی تاحال عدم ادائیگی، جامعات کے گرانٹ ان ایڈز میں اضافہ، عرصہ دراز سے زیر التوا پروموشنز پر نام نہاد آڈٹ پیرا وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے منظور شدہ پے رویژن اور 15 فیصد بجٹ میں اضافہ کیلئے زبردست احتجاجی ریلی آرٹس بلاک سے نکالی گئی جو مختلف شعبہ جات سے ہوتے ہوے وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا میں تبدیل ہوا۔ احتجاجی دھرنے سے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، نعمت اللہ کاکڑ، فرید خان اچکزئی، پروفیسر ارسلان شاہ اور گل جان کاکڑ نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین کو پچھلے دو مہینوں کی تنخواہیں اب تک ادا نہیں کی گئیں اور جون کے مہینے کی نامکمل تنخواہ جبکہ ڈسپیریٹی الاؤنس کے بھی چار مہینے کی ادائیگی بھی نہیں کی گئی۔ مقررین نے کہا کہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین اپنی ماہانہ تنخواہ کی بروقت ادائیگی کے لئے ہر مہینے احتجاج کرنا پڑتا ہے۔ مقررین نے کہا کہ گزشتہ 15 دنوں سے مکمل تنخواہ کی بروقت ادائیگی کے لئے احتجاج جاری ہے لیکن صوبائی حکومت جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کیلئے سنجیدہ نہیں۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر دس ارب روپے جاری کرے اور مرکزی حکومت ملک بھر کی سرکاری جامعات کیلئے 150 ارب روپے مختص کریں۔ بیان میں اعلان کیا کہ جامعہ بلوچستان کے اساتذہ، آفیسران و ملازمین کو مکمل تنخواہ کی فراہمی بقایاجات سمیت اور جامعات کو درپیش مالی بحران کے مستقل حل تک احتجاجی تحریک اور تمام دفاتر اور کلاسوں کی تالا بندی جاری رکھتے ہوئے بروز منگل کو بھی جامعہ بلوچستان میں احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیگی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان نے وائس چانسلر، پرووائس چانسلر، ٹریژار اور رجسٹرار جامعہ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامعہ کے ملازمین کو بروقت اور مکمل تنخواہوں کی ادائیگی کا مستقل حل نکالے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں