سی پیک اقتصادی عالمگیریت کا مظہر، پاکستان سڑکوں اور ریلوے سے معاشی فوائد حاصل کرے گا

اسلام آباد:چین پاکستان اقتصادی راہداری اقتصادی عالمگیریت کا مظہر، پاکستان سی پیک کے ذریعے سڑکوں اور ریلوے سے معاشی فوائد حاصل کرے گا،گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعدپاکستان اپنے سامان کی پروسیسنگ کے لیے ایران پر انحصار نہیں کرے گا۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری اقتصادی عالمگیریت کا مظہر ہے جو سرمائے، محنت اور خدمات کے ذریعے ترقی کے نئے امکانات کو فروغ دے رہی ہے۔ وسطی ایشیا، مشرق وسطی اور یورپ عالمگیریت کی اس نئی لہر کو فروغ دے رہے ہیں۔سی پیک کے طور پر علاقائی اقتصادی انضمام اور خوشحالی کے لیے ایک پرجوش اقدام اٹھایا گیا ہے۔ پاکستانی عوام اس سرمایہ کاری سے محفوظ محسوس کرتے ہیں کیونکہ چین کے پاکستان کے ساتھ قابل اعتماد تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ سی پیک اتھارٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور پالیسی ڈویژن کے سربراہ ڈاکٹر لیاقت علی شاہ نے ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے اوربیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو منصوبے سے پاکستان سی پیک کے ذریعے انضمام اور بہتر تجارتی راستوں اور ریلوے سے اپنے فوائد حاصل کرے گا۔ زراعت کی جدید کاری، بلیو اکانومی، علاقائی رابطہ، گوادر سٹی، اور غربت کا خاتمہ پاکستان کی ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کے تمام راستے ترقی پزیر علاقوں سے گزرتے ہیں جہاں غربت کی بلند شرح، قلیل روزگار، صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ ان منصوبوں کے ثمرات اقتصادی ترقی اور اعلی ترقی کے درمیان فرق کو ختم کریں گے اور ان علاقوں میں خوشحالی لائیں گے۔ عہدیدار نے کہا کہ سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز پاکستانی تاجروں اور کاروباری برادریوں کوکاروباری مواقع کی ایک وسیع رینج پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی حجم کا پاکستان کے کرنٹ اکاونٹ خسارے پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور تجارتی تاریخ بتاتی ہے کہ ملک کمزور معاشی ڈھانچہ کی وجہ سے توازن ادائیگی کے بحران میں بے بس رہا ہے۔ تاہم پاکستان کی برآمدات میں بہتری تبھی ممکن ہو گی جب روایتی مینوفیکچرنگ کے عمل کو ویلیو ایڈیشن دیا جائیگا۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سی پیک میں سماجی و اقتصادی ترقی کے ماہر عدنان خان نے ویلتھ پاک کو بتایا کہ پاکستان افغانستان کیلئے کل 7 لاکھ ٹن کارگوپراسیس کرتا ہے جس میں 6 لاکھ ٹن کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پرجبکہ بقیہ ایک لاکھ ٹن گوادر پورٹ پر ہیندل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر رش کی وجہ سے کارگو کا بڑا حصہ پروسیسنگ کے لیے ایران کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعدپاکستان اپنے سامان کی پروسیسنگ کے لیے مزید ایران پر انحصار نہیں کرے گا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کی اقتصادی سلامتی کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہے۔ جب معیشت تقریبا جمود کا شکار تھی، سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلے منسوخ کر دیے گئے تھے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کمزور تھی، اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری سست رفتاری سے کام کر رہی تھی، ان چیلنجوں کے باوجوداسلام آباد اور بیجنگ نے مضبوط تعلقات استوار کیے جس کی عکاسی سی پیک میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ گلوبلائزیشن کا ردعمل اور سی پیک کے ذریعے معاشی انضمام میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سی پیک تجارتی تعلقات کو فروغ دینے، مختلف خطوں میں مارکیٹ کی توسیع اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے کام کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں