چمن پولیس کا مبینہ ملزم کو مارنے کا دعویٰ، واقعے کیخلاف لواحقین کا احتجاج
کوئٹہ(این این آئی) چمن ،پولیس کا فائرنگ کے تبادلے میں ایک مبینہ ملزم کو مارنے کا دعویٰ، ورثاءکا ڈی سی آفس کے باہر دھرنا، اہلکاروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ ۔پولیس کے مطابق گزشتہ شب تھانہ سٹی چمن کی موبائل پارٹی معمول کے گشت پر تھی کہ گلدار باغیچہ کے قریب ایک مشکوک موٹر سائیکل کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم سواروں نے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر ایگل اسکواڈ کو اطلاع دی گئی اطلاع ملنے پر ایگل اسکواڈ نے تعاقب کیا اور بارڈر روڈ پر ملزمان کا سامنا ہوا جہاں انہوں نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں کانسٹیبل محمد سلیم ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔پولیس کی جانب سے جوابی کارروائی میں دونوں ملزمان زخمی ہوئے جنہیں سول ہسپتال چمن منتقل کیا گیا جہاں ایک ملزم عبدالباری زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرا ملزم محمد یونس زیر علاج ہے۔پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب واقعے کےخلاف عبدالباری پہلوان کے ورثائنے لاش ڈپٹی کمشنر/ڈی پی او آفس کے سامنے رکھ دھرنادے دیا قلعہ عبداللہ بازار میں غبیزی قبائل نے کوئٹہ چمن شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے احتجاجاً بند کر دی ہے شاہراہ کی بندش کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں مسافر اور گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ مظاہرین نے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کی فوری گرفتاری اور ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


