جیکب آباد، سیلاب زدگان کے فنڈزمیں خوردبرد، متاثرین فاقہ کشی پر مجبور

جیکب آباد (نامہ نگار) جیکب آباد میں سیلاب زدگان کے فنڈزمیں بڑے پیمانے پر خوردبردکا انکشاف، متاثرین امداد کو ترس گئے، آسمان تلے فاقہ کشی پر مجبور۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاریوں سے ضلع بھر میں 10لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ ضلع جیکب آباد میں 2لاکھ ایکڑ پر کھڑی چاول کی فصل مکمل تباہ ہوچکی ہے، ہزاروں کی تعداد میں کچے ا ور پکے مکانات مہندم ہوچکے ہیں جبکہ ایک سو سے زائد اموات ہوچکی ہیں، جیکب آباد میں سیلاب اور بارشوں سے متاثرہونے والے ہزاروں خاندان نقل مکانی کرنے سرکاری اسکولوں اور سڑکوں کے کناروں پر پناہ لے چکے ہیں جہاں ان کو خوراک کی کمی، پینے کے صاف پانی کی عدم فراہمی، واش روم نہ ہونے اور علاج کی سہولت نہ ہونے سمیت کئی مشکلات کا سامنا ہے، ضلع انتظامیہ کی جانب سے سیلاب کے کئی روز بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور سینیٹ اراکین کی جیکب آباد آمد کے موقع پر اولڈ ویگن اسٹینڈ پر چند خیموں پر مشتمل ایک خیمہ بستی قائم کی گئی ہے جہاں چند خاندان رہائش پذیر ہیں وہاں رہائش پذیر چند خاندانوں کو بھی انتظامیہ کی جانب سے مناسب کھانے سمیت کوئی سہولت میسر نہیں کی جارہی اور سرکاری خیمہ بستی میں رہنے والے متاثرین سخت مشکل حالات میں زندگی بسر کررہے ہیں، ذرائع کے مطابق سیلاب زدگان کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے ضلع انتظامیہ کو اب تک 4کروڑ 70لاکھ روپے جاری کئے گئے ہیں سندھ حکومت کی جانب سے جاری فنڈز پر متاثرین سمیت شہریوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے سیلاب زدگان کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر خرد برد کی ہے، اس سلسلے میں شہری محمد اعظم نے عدالت میں پٹیشن دائر کی ہوئی ہے اور فنڈز میں مبینہ کرپشن کے متعلق کیس سیشن جج کی عدالت میں زیرسماعت ہے عدالت میں درخواست گذار شہری محمد اعظم کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے عدالت میں متاثرین کے اخراجات کا ریکارڈ نہ ہونے کا اعترا ف کیا ہے۔ادھر ضلع بھر میں اکثر متاثرین کو سماجی تنظیمیں اور مخیر حضرات کھانا فراہم کررہے ہیں اور الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے ضلع کے مختلف علاقوں میں خیمہ بستیاں قائم کی گئیں جہاں بڑی تعداد میں متاثرین پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں انہیں خوراک اور علاج سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کوکھانا، خیمے، راشن اور مچھر دانیاں تک فراہم نہیں کی جارہی، مختلف سڑکوں کے کناروں پر پناہ لینے والے متاثرین کا کہنا ہے کہ ہمیں عام لوگ اور سماجی تنظیموں کے لوگ کھانا فراہم کرتے ہیں انتظامیہ نے ہماری طرف توجہ نہیں دی اگر سماجی تنظیمیں اور مخیر حضرات ہماری مدد نہ کرتے تو ہم بھوک سے ہی مر جاتے، متاثرین نے کہا کہ خیمے نہ ملنے کی وجہ سے کھلے آسمان تلے بے سروسامانی کی حالت میں زندگی گذار رہے ہیں،پینے کے صاف پانی کا مسئلہ ہے سیلاب کے بعد وبائی امراض پھوٹ چکے ہیں اس کے باوجود ہمیں علاج کی سہولت نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے ہمارے بچے مختلف امراض میں مبتلا ہوکر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔جماعت اسلامی ضلع جیکب آباد کے امیر حاجی دیدار لاشاری نے کہا ہے کہ ضلع انتظامیہ نے متاثرین کی کوئی مدد نہیں کی جس کی وجہ سے متاثرین مشکل زندگی گزاررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں