سول سوسائٹی اور غیر سرکاری اداروں کی سیلاب متاثرین کو طبی سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان کی سول سوسائٹی اور غیر سرکاری اداروں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں خواتین، بچوں اور ضیف العمر افراد سمیت تمام متاثرین کو علاج معالجے کی ناکافی سہولیات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وبائی امراض کے پھیلا کو روکنے اور حاملہ خواتین کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سول سوسائٹی اور غیر سرکاری تنظیموں کی متحرک خواتین یاسمین مغل، شاہدہ ارشاد، فرح اشرف، نصرت جہاں اور صدف اجمل نے کہا کہ کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں بہت بڑی سطح پر تباہی آئی ہے اور مالی و جانی نقصانات تکے ساتھ ساتھ صحت عامہ بھی شدید متاثر ہوئی ہے بلوچستان میں جولائی، اگست 2022ء سے جاری طوفانی اور شدید بارشوں سے بلوچستان کے طول وعرض میں جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ بارشوں اور سیلابی ریلوں نے حکومت بلوچستان کی مشکلات اور پریشانیوں میں مذید اضافہ کر دیا ہے سیلاب اور بارشوں سے وسیع پیمانے پر صوبے بھر میں کچے مکانات منہدم ہوئے ہیں اور بلوچستان کی ایک بہت بڑی آبادی اس وقت بے گھر ہوچکی ہے اور متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں عورت فانڈیشن نے خواتین، بچوں، بوڑھوں اور خاص طور پر حاملہ خواتین کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ملک گیر مادر لینڈ فلڈ ریلیف مہم شروع کی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت تاریخ کی بدترین تباہی کا سامنا کر رہا ہے بڑے پیمانے پر سیلاب نے ملک کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے 30 ملین سے زائد افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور صاف پانی، خوراک اور طبی سامان سے محروم ہیں۔ حفظان صحت کے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اور سنگین بیماریوں کا خطرہ ہے۔ 40 لاکھ بے گھر بچوں کو آلودہ پانی اور صفائی کی کمی کے نتیجے میں ہیضہ، ٹائیفائیڈ ملیریا اور پیچش جیسی بیماریوں سے موت کا خطرہ ہے پورے پاکستان میں 10 ملین ایکڑ سے زیادہ گندم، کپاس، گنے اور دیگر فصلیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے آنے والے مہینوں تک غذائی عدم تحفظ کے سنگین خدشات ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین، خاص طور پر گھر کی سربراہ خواتین اور حاملہ خواتین کو بہت سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ انہیں امداد تک کم رسائی حاصل ہے،کیونکہ حکومت اور امدادی تنظیموں کی طرف سے امدادی کوششیں اکثر ان کی مخصوص ضروریات کو پورا نہیں کرتیں۔ یو این ایف پی اے کی ایک کے مطابق طبی خدمات اور سامان کی کمی کی وجہ سے اس وقت تقریبا ساڑھے چھ لاکھ سے زائد حاملہ خواتین سیلاب متاثرین میں شامل ہیں۔جس میں 73ہزار خواتین کی ڈیلیوری آئندہ ماہ متوقع ہے۔ انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے علاوہ، سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین اور لڑکیاں کم غذائیت، خون کی کمی، حفظان صحت اور صفائی کے ناقص انتظامات اور دیگر خطرناک بیماریوں سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ عورت فاؤنڈیشن اپنے ضلعی نمائندوں کے ذریعے سیلاب متاثرین کو صاف پانی، پانی کی صفائی کی گولیاں، خشک اناج، چاول، آٹا، بنیادی غذائی اشیا، وٹامنز، ادویات، صابن، ذاتی حفظان صحت کی مصنوعات اور کھانا پکانے کے برتن فراہم کرنے کے لیے عطیہ کردہ فنڈز کا استعمال کررہی ہیں۔ اس سلسلے میں عورت فاؤنڈیشن نے قومی اور صوبائی سطح پر فنڈ ریزنگ کی ایک قومی مہم بھی چلارہی ہیں۔ اس مہم میں خواتین کی فوری ضروریات بشمول سینیٹری نیپکن، زیر جامہ اور دیگر ضروری لباس کی فراہمی پر بھی خاص طور پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ہر عطیہ سیلاب زدگان کی زندگی میں فوری فرق ڈالے گا۔ یاسمین مغل نے کہا کہ عورت فاؤنڈیشن اپنے جذبہ ضلعی فورم کے ممبران کے ساتھ مل کر میڈیا سے اپیل کرتی ہے کہ وہ خواتین، بچوں، بوڑھے و ضعیف افراد اور حاملہ خواتین کے مسائل کو سامنے لاتے ہوئے حکومت، پی ڈی ایم اے اور مخیر حضرات سے اپیل کریں کہ یہ وہ طبقہ ہیں جن کو امداد تک کم رسائی حاصل ہے۔ اس سلسلے میں ہم درخواست کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ہماری اس مہم کا حصہ بنیں تاکہ معاشرے کے محروم طبقات کو جلد از جلد ریلیف پہنچائی جاسکے۔


