ٹائیفائیڈ سے بچاو مہم، آٹھ لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن کی جائے گی، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان میں ٹائیفائیڈ سے بچاوکی 12 روزہ ویکسین مہم کا آغاز کردیا گیا پہلے مرحلے میں کوئٹہ کی 39 شہری یونین کونسلز میں نو سے پندرہ سال کے آٹھ لاکھ 56 ہزار بچوں کو ٹائیفائیڈ سے بچاو کی ویکسین کی جائے گی ۔یہ بات ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کوئٹہ نور بخش بزنجو نے پی ایچ سی گلوبل کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں منعقدہ مشاورتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر نیشنل اسٹاف آفیسر فرحانہ ناز، نیشنل اسٹاف آفیسر ای پی آئی ڈویژن ٹاسک فورس ڈاکٹر فرحان انجم، ڈسٹرکٹ کوآرڈینٹر پی ایچ سی گلوبل فہد علی کیانی، ٹاون کوآرڈینٹر سمعیہ ترین ممتاز سیاسی وسماجی شخصیت سکینہ عبداللہ بھی موجود تھیں، مشاورتی نشست میں شرکاءکو بتایا گیا کہ پاکستان میں ٹائیفائڈ کی ایک ایسی قسم بھی ہے جو ادویات سے ٹھیک نہیں ہوتی تاہم اسکے بچاوکی ویکسین سے اسکا تدارک ممکن ہے ٹائیفائڈ سے بچاوکی یہ ویکسین 2019 کو سندھ میں جبکہ 2021 میں پنجاب میں عام افراد کو کی گئی اب بلوچستان میں اسکا آغاز کیا جارہا ہے ابتدائی طور بلوچستان کی شہری یونین کونسلز میں یہ ویکسین لگائی جائیگی بعد ازاں اس کا دائرہ کار پورے صوبے میں وسیع کیا جائیگا اس مقصد کے لئے پولیو ٹیموں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی ٹائیفائڈ کے خلاف اس ویکسین مہم میں پی ایچ سی گلوبل بلوچستان کے چار اضلاع لسبیلہ، کیچ، جعفرآباد اور کوئٹہ میں صوبائی حکومت کے اشتراک سے کام کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ ٹائیفائڈ کے خلاف اس ویکسین کے کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں تاہم احتیاطی طور پر محکمہ صحت بلوچستان کے ماہرین طب ہمہ وقت تیار رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ٹائیفائڈ سے بچاوکی ویکسین کو قومی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات میں شامل کیا جائے گا ڈی ایچ او کوئٹہ نے کہا کہ چونکہ ٹائیفائڈ سے بچاو کی ویکسین ایک نیا پروگرام ہے اس لئے عوامی آگاہی کے لئے شعوری پروگرام کی ترویج کی ضرورت ہے جس کے لئے سول سوسائٹی اور میڈیا سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ڈاکٹر نور بخش بزنجو نے کہا کہ ٹائیفائڈ سے بچاوکی ویکسین صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جس کے نتیجے میں عوام ٹائیفائڈ جیسی بیماری سے بچاو کی پیشگی تدابیر اختیار کر سکیں گے ۔


