بلوچستان میں پانی کی گرتی سطح کی بہتری کیلئے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبے مکمل نہ ہوسکے

نوشکی (انتخاب نیوز) بلوچستان میں پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بہتر بنانے کیلئے کے لیے سو ڈیم تعمیر کرنے کے لیے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا تاکہ بلوچستان میں پانی کی گرتی ہوئی سطح کو برقرار رکھا جائے اس پروجیکٹ میں نوشکی میں خیصار ڈیم بھی شامل تھا مارچ 2018 ء میں خیصار ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا اور دو سال میں ڈیم کی تعمیر کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا پریڈ دیا گیا لیکن گرانٹ کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے ڈیم کی تعمیر پر کام بند ہونے سے ڈیم کی تعمیر ہنوز تشنہ تکمیل ہے ڈیم کا 70 فیصد کام مکمل ہوچکا تھا ا ور دسمبر 2022ء تک ڈیم کی تعمیر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا ڈیم کے منصوبے میں تبدیلی بھی کی گئی لیکن جولائی ا ور اگست کے طوفانی بارشوں کی وجہ سے خیصار نالہ میں متواتر سیلابی ریلوں کی وجہ سے خیصار ڈیم کافی متاثر ہوا ا ور ڈیم کی تعمیر کا کام بند کر دیا گیا ہے حالیہ سیلابی ریلوں کی وجہ سے بلوچستان کے اکثر ڈیم ٹوٹ گئے جس کی وجہ سے اربوں روپے کے قومی دولت کا ضیاع ا ور دوسری جانب ڈیموں کے ٹوٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی جس کی وجہ سے بلوچستان میں کے ہزاروں زمین دار معاشی طور پر مفلوج ہو گئے ڈیمز ٹوٹنے کی سب سے بڑی وجہ کمیشن اور کرپشن ہے ا ور انجینئروں کی رائے کو اہمیت نہ دینا ہے ڈیموں کی تعمیر کو کمیشن سے مستثنیٰ قرار دیکر ڈیموں کی تعمیر کے لیے موثر مانیٹرنگ کا طریقہ کار وضع کیا جائے، خیصار ڈیم کے منصوبے کو فوری طور ریویز کرکے خیصار ڈیم کے تعمیر کے منصوبے پر ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے اگر اس منصوبے پر فوری کام شروع نہیں کیا گیا تو کروڑوں روپے کا ضیاع ہوگا خیصار ڈیم کی تعمیر کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنے کی ضرورت ہے اور اب بارشوں کا موسم بھی نہیں ہے بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے خیصار نالہ میں خشک چشمے دوبارہ پھوٹ پڑے ہیں، چینل کے ذریعے خیصار نالہ کے چشموں کے پانی کو چینل کے ذریعے جوئے نوشکی میں سے منسلک کیا جائے تو جوئے نوشکی کی روانی تیس سال بعد دوبارہ بحال ہو سکتی ہے جس سے نوشکی میں آبنوشی کے فراہمی میں بہتری شہر کی خوبصورتی میں اضافہ اور زراعت کے فروغ میں مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اس مقصد کے حصول کے لیے عوام کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عوام کی شراکت کے بغیر پائیدار ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر ناممکن ہے تمام ترقیاتی فلاحی منصوبے عوام کے ٹیکسوں سے عمل میں لائے جاتے ہیں اور عوام کا فرض ا ور زمہ داری بنتی ہے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں پر نظر رکھیں ا ور ناقض تعمیراتی منصوبوں کی بروقت نشاہدہی کریں تو اس کے مثبت اور درورس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں