لیبیا، جنگ میں 16شامی بچے جاں بحق

دمشق:شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے بتایا ہے کہ ترکی کی جانب سے لیبیا میں نیشنل آرمی کے خلاف لڑائی کے لیے بھرتی کیے گئے 16 شامی بچے تازہ لڑائی میں مارے گئے۔ ان بچوں کی عمریں 16 اور 18 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق آبزرویٹری نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی وفادار فورسز اور نیشنل آرمی کے درمیان لڑائی کے لیے ترکی نے شام سے مختلف جنگجو گروپوں سے تعلق رکھنے والے 150 بچوں کو بھرتی کرکے طرابلس بھیج رکھا ہے۔بچوں کی شام سے لیبیا منتقلی کے عمل میں ان بچوں کے والدین کو بے خبر رکھا گیا۔ ترکی اور اس کے حامی گروپ شام میں لوگوں کے نا مساعد معاشی حالات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کررہے ہیں۔آبزرویٹری نے قابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ 18 سال سے کم عمر کے بچے پہلے ادلب اور شمالی شام کے دیہی علاقوں سے عفرین کام کاج کے لیے لائے گئے۔ عفرین میں انہیں جنگی تریبت دی گئی اور ان کے والدین کو بتائے بغیر انہیں لیبیا میں قوم وفاق حکومت کی مدد کے لیے جنگ میں جھونک دیا گیا۔ایک پندرہ سالہ بچے کو شمالی شام میں ایک پناہ گزین کیمپ میں سے عفرین زراعت اور کھیتی باڑی کے کام کی آڑ میں لایا گیا جہاں 20 دن کے بعد اس کا اپنے اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ حال ہی میں اس کے والدین کو ایک فوٹیج موصول ہوئی جس میں ان کے بیٹے کو لیبیا میں لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے نے والدین کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔بچے کے والدین نے ‘سلطان مراد’ نامی ایک جنگجو گروپ سے رابطہ کرکے استفسار کیا کہ آیا اس نے بچے کو جنگ کیلیے بھرتی کیا ہیتو گروپ نے اس کی تردید کی مگر حال ہی میں اسی گروپ نے انہیں بتایا کہ ان کا بچہ لیبیا میں لڑائی کے دوران مارا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں