بلوچستان لاوارث نہیں، اپوزیشن جماعتوں نے جاوید جبار کی این ایف سی میں ممبر نامزدگی کو مسترد کردیا

کوئٹہ:متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں نے کہا ہے کہ حکومت سسٹم چلانے کے قابل نہیں ہے وفاقی حکومت این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنا اور 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنا چاہتی ہے جسے مسترد کرتے ہیں اگر18ویں ترمیم میں کچھ چھیڑخانی کی گئی تو ہم نئے آئین کا مطالبہ کریں گے،جاوید جبار کی بطور صوبائی ممبراین ایف سی تقرری کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے کورونا کی آڑ میں بلوچستان میں ریکارڈ کرپشن ہورہی ہے 22سو وینٹی لیٹرزمیں سے بلوچستان کو کتنے ملے؟،بلوچستان کو پاکستان کا مستقبل کہنا صرف زبانی جمع خرچ ہے۔یہ بات سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم خان رئیسانی،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنما سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارت وال،مسلم لیگ بلوچستان کے صدر شیخ جعفر خان مندوخیل،پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر حاجی علی مدد جتک،مسلم لیگ(ن) کے صوبائی جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ،نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو، جمعیت اہلحدیث کے مولانا عصمت اللہ سالم،سابق رکن قومی اسمبلی قہار خان ودان،رکن بلوچستان اسمبلی نصراللہ زیرے اوردیگر نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم خان رئیسانی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے جو ٹی او آر بنائے ہیں وہ سی سی آئی میں پیش ہونے چاہئے تھے ا ن ٹی او آرمیں یہ بھی بتایا گیا ہی کہ عارف علوی اور عمران خان عید پر چکن یا دال کھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے ساتھ ساتھ 18ویں ترمیم میں بھی تبدیلی کی راہ ہموار کی جارہی ہے ہم اسلام آباد کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں یہ ٹی او آرقبول نہیں ہم اسکے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے پہلے سے بے چین صوبوں میں مزیدبے چینی بڑھے گی جسے ہم ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں بہت کرپشن ہوئی ہم نے انکا راستہ نہیں روکانیب اورعدالتیں کھلے ہیں وہ جب چاہیں ان سے رابطہ کریں بلوچستان بھی دہشت گردی کے خلا ف جنگ کا حصہ ہے اسے بھی اضافی دو فیصد ملنے چاہئے ہم اسوقت اپنی سیکورٹی پر40ارب روپے خرچ کر رہے ہیں جبکہ وفاق سے محصولات نہیں مل رہے اسلام آباد کے لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کو نیویارک بنادیا ہے جبکہ انہیں حقائق دیکھنے چاہئے۔انہوں نے کہاکہ 2008ء میں ہماری حکومت نے 38ارب روپے کیش ان ہینڈ چھوڑے جبکہ 20ارب کا اوور ڈرافٹ کروایا بلوچستان سے متعلق فیصلے یہاں کے معروضی سیاسی،سماجی حالات کے مطابق ہونے چاہئے۔پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنما و سابق صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارت وال نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے نامزد کردہ رکن صوبے سے تعلق نہیں رکھتے وہ یہاں کی معاشرتی،معاشی،جغرافیائی صورتحال سے آگاہ نہیں یہ نام کسی اور کی ایما پردیا گیا ہے تاکہ جو شخص صوبے کی نمائندگی نہیں کرسکتا اسے صوبے کی نمائندگی دی جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو لاوارث نہ سمجھا جائے یہاں حاضر سروس اورریٹائرڈ لوگ ہیں جو معیشت اور معاشرت کو بہتر انداز میں سمجھتے ہوئے مشورہ دے سکتے ہیں جاوید جبار این ایف سی کیلئے قابل نہیں ہیں ہم انکا نام مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ انکا نام واپس لیا جائے اور صوبے سے تعلق رکھنے والے قابل شخص کو این ایف سی کا ممبر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈپانچ سال تاخیرکا شکار ہے جبکہ قوانین کے مطابق کمیشن ہر چھ ماہ بعد پارلیمنٹ کو رپورٹ اوراپنا اجلاس کریگا یہ دونوں کام نہیں ہورہے آئین کے آرٹیکل 160کے سب سیکشن3Aکے مطابق این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جاسکتا حکومت جو کچھ کررہی ہے وہ آئین کی پامالی ہے وزیراعظم اور صدرمملکت سے اپیل ہے کہ 70سال بعد آئین میں صوبوں کو خودمختاری ملی اسے نقصان نہ پہنچایا جائے جبکہ تمام صوبوں کے وزرااعلیٰ بھی اپنے اختیارات کا تحفظ کریں۔انہوں نے کہا کہ سندھ نے بھی این ایف سی ایوارڈ کے نوٹیفکیشن کی مخالفت کردی ہے جبکہ کشمیر قبائلی علاقہ جات،گلگت بلتستان کی این ایف سی میں نمائندگی نہیں ہے انہیں شامل کرکے حکومت آئین کی مخالفت کررہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ 18ویں ترمیم کے خاتمے کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت صوبوں کے معاشی مفادات کا تحفظ کرنے کی ضامن ہے ملک چلانے کیلئے آئین پرعملدرآمد ضروری ہے 18ویں ترمیم کی پہلے دن سے مخالفت جاری ہے ہم کسی صورت میں 18ویں ترمیم کو رول بیک نہیں کرنے دیں گے اگرایسا کچھ کیا گیاتو پھر ہم نئے آئین کی بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس صوبے بھرمیں پھیل چکا ہے سیلیکٹڈ حکمرانوں نے عوامی نمائندوں کی حیثیت نوکر کی بنادی ہے وفاق کو جو22سو وینٹی لیٹر ملے ہیں کیا ان میں سے ایک بھی بلوچستان کو دیا گیا ہے حکومت بلوچستان کا ڈی جی صحت خود کہہ رہا ہے کہ ستمبر میں 90لاکھ لوگ متاثر ہوسکتے ہیں اسوقت حکومت کی طرف سے 2300افراد کے متاثر ہونے کے اعدادو شمار غلط ہیں کورونا شہر شہر،گاؤں گاؤں پھیل چکا ہے حکومت کے پاس استعداد کار ہی نہیں ہے کہ وہ معلوم کرسکے کہ کتنے لوگ متاثر ہیں صوبے میں کورونا کے نام پر فنڈز میں لوٹ مار ہورہی ہے ایک ہزار روپے کے راشن کا تھیلا 2500روپے کاظاہر کیا گیا ہے۔مسلم لیگ بلوچستان کے صدر وسابق وزیر شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پہلے این ایف سی ایوارڈ کا بڑا حصہ آبادی کی بنیاد پر دیا جاتا تھا لیکن پچھلے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو دیگربنیادوں پر بھی فنڈز ملے جس سے صوبوں کو فائدہ پہنچا لیکن اب ایک بار پھر این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کاحصہ کم کیا جارہا ہے ہمارامطالبہ ہے کہ این ایف سی میں رقبے،غربت،بنیادی سہولیات،تعلیم،صحت کو مدنظر رکھاجائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے اہم ترین کیس کادفاع کرنے کیلئے ہیوی ویٹ کی ضرورت ہے جو جاوید جبار نہیں ہیں اسوقت حکومت میں لوگ پسند وناپسند کی بنیاد پر بیٹھے ہیں جو لوگ غلہ بانی کے قابل نہیں انہیں بھی صوبے کے مفادات کا تحفظ دیدیا گیا ہے حکومت نے کورونا وائرس کی آڑ میں 7ارب روپے کہاں خرچ کئے معلوم نہیں ہم 18ویں ترمیم کو کسی صورت نہیں چھیڑنے دیں گے۔پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدرحاجی علی مدد جتک نے کہا کہ کورونا کی آڑمیں بلوچستان میں ریکارڈ کرپشن ہورہی ہے حکومت نا اہل ہے جس نے پی ڈی ایم اے کا محکمہ شوروم والوں کے حوالے کردیا ہے جو لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں صوبے میں حکومت کی غفلت سے اربوں روپے لیپس ہورہے ہیں عمران خان اپنی طرح کے سلیکٹڈلوگوں کو عوام پر مسلط کررہے ہیں این ایف سی ایوارڈ اور18ویں ترمیم کو چھیڑنے سے حالات خراب ہونگے۔مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کااحساس محرومی اسوقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک قومی اسمبلی میں صوبے کی نشستیں نہیں بڑھائی جاتیں ہر دور میں کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کا احساس محرومی دور کیا جائے گا بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے لیکن اسکے برعکس صوبے کو مزید پسماندگی میں دکھیلاجارہا ہے۔ جمعیت اہلحدیث کے رہنما مولانا عصمت اللہ سالم نے کہا کہ جام کمال اپنے نام کی طرح کوئی کمال کرکے دکھائیں کہ وہ بھی با صلاحیت اور اہل ہیں لیکن جام اپنے سسرالیوں کے ساتھ رشتے داریاں نبھانے میں مصروف ہیں۔نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد لانگو نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ تعصب کی بنیاد پر کیا جارہا ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں ظلم کے پہاڑ ڈھانے والے مشرف دور کے وزیر کو صوبے کا نمائندہ بناکر ہمارے زخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے جس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں