افغانستان کیساتھ بارڈر مارکیٹوں کے قیام کیلئے اقدامات کیے جائیں گے، سیکرٹری انڈسٹریز بلوچستان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) سیکرٹری انڈسٹریز بلو چستان عابد سلیم قریشی نے کہا ہے کہ بوستان اسپیشل اکنا مک زون میں صنعتکا روں کو بجلی، گیس و دیگر سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں تاخیر ناقابل قبول ہے ہمیں صنعتکاروںکی حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے، اکنامک زونز میں رئیل اسٹیٹ بزنس نہیں ہونے دیں گے، الاٹمنٹ کے لئے ان شعبوں میں صنعتکاری کرنے والوں کو زیادہ ترجیح دی جائے گی، جس سے صوبے کی پیداواری شعبوں کو تقویت مل سکے۔ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ کا حکومت اور صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کے درمیان پل کا کردار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے دوران کیااس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر انڈسٹریزاینڈ کا مرس آصف نواز بھی مو جو د تھے ۔اس ستے قبل چیمبر آف کا مرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حا جی عبداللہ اچکزئی، سینئر نائب صدر حا جی آغا گل خلجی ، نا ئب صدر سید عبدالاحد آغا و دیگر ممبرا ن نے سیکرٹری انڈسٹریز بلو چستان کی تو جہ صو بے میں بو ستان اسپیشل اکنا مک اور دیگرمنی انڈسٹریل زونز کی صورتحال کی جا نب مبذول کرا ئی اور بتا یا کہ بوستان اکنامک زون میں انڈسٹریز لگانے کے باوجود بھی وہاں درکار سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے بجلی، گیس اور امن وامان کی صورتحال بارے اقدامات کرنے اور اس بابت جنگی بنیادوں پر کام کرنے پر زور دیا اور کہا کہ جب تک صنعتوں کو بلا تعطل بجلی اور گیس کی فراہمی ممکن نہ بنائی جائے، اس وقت تک صوبے میں انڈسٹریز کے شعبے کی ترقی سست رفتار ہوگی۔ انہوں نے ہمسائیہ ممالک ایران اور افغانستان کے ساتھ نئے بزنس گیٹس اور کراسنگ پوائنٹس کی بحالی پر زور دیا اور کہا کہ نئے بارڈر مارکیٹ اور اسپیشل زونز کے سلسلے میں جاری اقدامات کو مزید تیز تر کیا جائے۔ انہوں نے بلوچستان میں فروٹس اینڈ ویجی ٹیبل پروسیسنگ پلانٹ کے قیام کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ ہمیں امید ہے اس بابت سیکرٹری انڈسٹریز اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اکنامک زونز میں صنعتکاروں کے مسائل کے حل کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک مشترکہ اجلاس کے انعقاد کی بھی تجویز دی۔ اس موقع پر سیکرٹری انڈسٹریز بلوچستان عابد سلیم قریشی کا کہنا تھا کہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ کے عہدیداران اور ممبران نے جن مسائل اور مشکلات کا ذکر کیا ہے وہ سب حقیقت پر مبنی ہے ہم چاہتے ہیں کہ انڈسٹریز کے شعبے کو مزید پرانے طرز پر نہ چلایا جائے اسی لئے ہم نے ڈی جی انڈسٹریز کے حوالے سے ایک نئی پالیسی پر کام شروع کردیا ہے مذکورہ پالیسی کے تحت صنعتکاروں کی جانب سے رقوم ڈی جی کے اکاﺅنٹ میں جمع ہوں گی، پھر اسے استعمال کرنے کے لیے ہم صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کی ہی رائے لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بوستان اسپیشل اکنامک زون میں صنعتوں کو بجلی اور گیس کی فراہمی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد کی تجویز پر عمل کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قلعہ سیف اللہ نسئی، خضدار، تربت اور ڈیرہ مراد جمالی میں منی انڈسٹریل زونز میں فنانسنگ اور فند ریزنگ کیلئے پرائیویٹ ڈویلپرز کی بھی مدد لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چمن میں ایکسپورٹ پروموشن زون اور اسپیشل اکنامک زون کے قیام بارے بھی کام کیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ بوستان اسپیشل اکنامک زون اور دیگر میں بجلی و گیس کی فراہمی بارے کمپنیوں سے رابطے سمیت اس بابت بورڈ آف انویسٹمنٹ سے بھی رابطہ کریں گے بلکہ اس بابت چیف سیکرٹری ودیگر کی بھی مددلی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بوستان اکنامک زون کے لئے مزید 800 ایکڑ اراضی کیلئے مقامی قبیلہ و دیگر سے گفت و شنید جاری ہے، ہم کسی بھی اکنامک زون میں رئیل اسٹیٹ بزنس نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی خالی پلاٹ کسی کو فروخت کرنے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر مارکیٹس کے قیام کے لئے سرحد کے دونوں طرف اقدامات کئے جاتے ہیں ایران کے ساتھ 6 بارڈر میں سے 3 پر چیدگی، مند اور گپ میں کام جاری ہے جبکہ مزید بھی تین بارڈر مارکیٹس پر کام ہوگا، اس سلسلے میں افغانستان کے ساتھ بارڈر مارکیٹس کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، ہم چاہتے ہیں کہ بھارت، بنگلا دیش کی طرز پر مارکیٹس بنے۔ انہوں نے کہا کہ کراسنگ پوائنٹس کے بارے میں وزارت تجارت سے رابطہ کریں گے۔ انہوں نے فروٹس اینڈ ویجی ٹیبل پروسیسنگ پلانٹ کے قیام کے لیے اقدامات کی یقین دہائی کرائی۔ آخر میں سیکرٹری انڈسٹریز بلوچستان کو چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ کے صدر حاجی عبداللہ اچکزئی ودیگر عہدیداران و ممبران کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں