پی اے سی نے حکومت بلوچستان کی مسنگ گاڑیوں کی ریکوری کے احکامات دیدیے
کوئٹہ (انتخاب نیوز) پبلک اکانٹس کمیٹی (پی اے سی)نے تمام مسنگ گاڑیوں کو ریکور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کے وہ مسنگ گاڑیاں جو اب تک کئی ایسے لوگوں کے استعمال میں ہیں جو اب بلوچستان حکومت میں خدمات سر انجام نہیں دے رہیں ان تمام لوگوں سے گاڑیوں کو جلد ریکور کیا جائے اور اس بابت رپورٹ ایک ماہ کے اندر پی اے سی کو جمع کرائیں۔ گزشتہ روز پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اختر حسین لانگو کے زیر صدارت بلوچستان صوبائی اسمبلی میں منعقد ہوا۔اجلاس ایس اینڈ جی اے ڈی کے ساتھ آڈٹ رپورٹس سال 2016 تا 2019 سے متعلق منعقد ہوا ۔ اجلاس میں اراکین پی اے سی قادر علی نائل ،نصراللہ خان زیرے، ملک نصیر احمد شاہوانی و دیگر نے شرکت کی ۔ اس موقع پر پی اے سی چئیرمین نے محکمہ کو ہدایت کی کہ بلوچستان حکومت کی سینکڑوں گاڈیاں جو ملک کے کئی شہروں کے سڑکوں پر نظر آتی ہے کو جلد ریکور کیا جائے ۔ حکومت بلوچستان میں خدمات سر انجام دینے والے آفیسران جو اب ٹرانسفر یا ریٹائر ہو چکے ہیں لیکن افسوس ہے کہ بلوچستان حکومت کی گاڈیاں اب بھی انکے زیر استعمال ہیں۔ ایسے تمام لوگوں سے صوبے کی گاڈیاں واپس لی جائیں۔ چیئرمین نے سیکرٹری اسمبلی کو بھی ہدایات کی کہ تمام محکموں کے پرنسپل اکاﺅنٹنگ آفیسران کو ہدایات دیں کہ انکے متعلقہ محکموں کے مسنگ گاڑیوں کی تفصیل جلد ازجلد پی اے سی کو فراہم کریں۔ ایک پیرا پر چیئرمین نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایس اینڈ جی اے ڈی کے ملازمین کو اگر بسوں کی سہولت مہیا کی گئی ہے لیکن ان ملازمین سے مکمل کنونس الاﺅنس کاٹنے کی بجائے ان سے محکمہ کم از کم محکمہ پک اینڈ ڈراپ کے پیسے کاٹے۔ باقی ملازمین جن کو گاڑیاں ملی ہیں ان سے کنونس الاﺅنس کاٹا جائیں۔ محکمہ خزانے کو ہدایات دیتے ہوئے چیئرمین نے کہا صوبے کے تمام خزانے آفیسز کو ہدایات جاری کریں کہ وہ ٹیکسز کی کٹوتی چیک فراہم کرنے سے پہلے کریں تاکہ مروجہ تمام ٹیکسز کی عدم کٹوتی کا کوئی پیرا نہ بنے۔ اجلاس میں چیف پائلٹ کے پیراز بھی زیر غور رہیں۔


