گزشتہ 4 سال سے کوئٹہ میں گیس دستیاب نہیں ہے،بی این پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ممبر پارلیمانی سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالونی پروفیسر ڈاکٹر شہناز نصیر بلوچ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے 4 سال سے کوئٹہ میں گیس دستیاب نہیں ہے سردیوں کا آغاز ہوچکا ہے گزشتہ ماہ اگست میں بارشوں کا موسم ہونے کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ گزشتہ سال کے برعکس اس سال سردی زیادہ اور وقت سے پہلے آگئی ہے انہوں نے کہا ہے کہ سردیوں میں کم از کم گیس کا مسئلہ حل ہو اور دوسری اس بات کی توجہ دلائی کہ بلوچستان کے2500 افراد کان کنی سے روزگار ہے جس میں مچھ ، ہرنائی کے علاقے اس سے وابستہ ہیں جس کا زیادہ تر آبادی مزدور طبقہ ہے حالیہ بارشوں سے ان علاقوں کو جہاں مزدو آباد ہیں ان کو ریلیف لسٹ میں ڈالہ جائے جس میں پانی کا بہت برا ریلہ آیا تھا جس میں پُل بھی بہہ گئے ہیں اُن علاقوں کو ریلیف کی ضرورت ہے ان کو ریلیف لسٹ میں اندراج نہیں کیا گیا ہے جن کے مال، مویشی بھی ان بارششوں میں بہہ گئے ہیں ہمارا سال تعلیم کا دسمبر تک ہے اور سال کے 3ان بارشوں میں گزر گئے ہیں سکول جتنے متاثر ہوئے ہیں سکولوں میں پانی ہونے کی وجہ سے سال کے پڑھائی کے حوالے سے بتایا کہ بلوچستان کے تمام سکولوں کو کس طرح ٹھیک کیا جائے بچے سکول نہیں جارہے ہیں تو انہوں نے اپنے خطاب میں اس کی طرف توجہ دلائی کہ بلوچستان کے تعلیمی سال بچوں کا ضیائع نہ ہوں اس کی اقدامات کے بارے میں اسمبلی کو متوجہ کیا کہ بلوچستان کے حالیہ تعلیمی نظام کیسے موثر ہوگا۔


