غور و فکر کی بنیاد !
تحریر از جان محمد انصاری
ارسطو نے کہا تھا کہ انسان تب کسی چیز کے بارے میں غور و فکر کرنا شروع کر دیتا ہے جب وہ حیرت زدگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یعنی حیرت زدگی اسے سوچنے اور غور وفکر کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے ۔ اسی لیے انسان ہمیشہ اسے چیزوں کی جستجو میں مبتلا ہوتا ہے جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا ۔ کسی بھی عمل کے پیچھے در اصل غور فکر کا ہاتھ ہوتا ہے۔ انسان تب کسی فعل کو انجام دیتا ہے جب وہ اس کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے ۔ کسی چیز کی وجود کا ہونا یا نہ ہونا بھی انسان کی فکر سے وابستہ ہے ۔ ہم اسی چیزوں کو مانتے ہے جو انسانی فکر میں وجود رکھتا ہے ۔
خیالات کے مجموعے کو نظریہ کہا جاتا ہے اس کے مختلف مراحل ہوتی ہے ۔ سب سے پہلے یہ مفروضے کی شکل میں انسانی ذہن میں پیدا ہوتی ہے اور پھر اس مفروضے کو دلیل کے ساتھ ثابت کرنے کے عمل کو نظریہ کہا جاتا ہے ۔ یہی پھر یہی نظریہ کسی عمل کو انجام دینے میں سبب بنتا ہے ۔ غور و فکر وہ عمل ہے کہ جس کی وجہ سے انسان دیگر مخلوقات سے الگ ہے ۔ انسان اگر غور وفکر سے کام نہیں لیتا تو اس میں اور ایک حیوان میں فرق نہیں رہتا ۔
فلسفے کو تمام علوم کی ماں کہی جاتی ہے اور فلسفہ بنیادی طور پر غور وفکر کرنے کا نام ہے ۔ یعنی تمام علوم کی بنیاد انسان کی غور وفکر سے تعلق رکھتی ہے ۔ غور وفکر کرنے کا بھی اپنا ایک طریقہ کار ہوتی ہے ۔ ورنہ آپ غور وفکر کرنے کے بعد نتائج تک پہنچنے کے بجائے کسی پاگل خانے میں بھی پہنچ سکتے ہے ۔ کیونکہ ذہنی انسان میں بیک وقت ہزاروں خیالات وجود میں آتی ہے ، کنفوشس نے کہا تھا کہ غور و فکر کے بغیر مطالعہ بیکار ہے اور بغیر مطالعہ غور و فکر خطرناک ۔ ان کی کہی ہوئی اس جملے کی روشنی میں اگر ہم غور و فکر کو دیکھنے کی کوشش کرئے تو ہم اس نتیجے میں پہنچ جائے گے کہ غور وفکر کرنے کیلئے بنیادی طور پر مطالعہ کرنا لازمی ہے ۔ مطالعہ کے بغیر غور و فکر وہ خطرناک عمل ہے جو کسی انسان کو پاگل خانے تک پہنچا سکتا ہے ۔ مطالعہ اگر غور و فکر کے بغیر ہوجائے تو وہ بیکار ہے کیونکہ غور و فکر کی بنیاد ہی مطالعہ پر رکھا گیا ہے ۔
مطالعہ بیکار سے مراد اگر مطالعے کے نتیجے میں آپ کی نظریہ میں تبدیلی نہیں آتا تو وہ بیکار ہے ۔
لہذا کسی چیز کے بارے میں غور و فکر کرنے سے پہلے مطالعہ کرنا لازمی ہے ۔ خلیل جبران کا ایک خوبصورت قول ہے کہ نئ بنیادیں وہی ڈال سکتا ہے جس کو علم ہو کہ پرانے بنیادیں کیوں بیٹھ گئ تھی ۔ اتنی بڑی تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی مسائل کے بارے میں راہ حل اس وقت تلاش کرسکتے ہے جب ہم اپنے مسائل کے متعلق غور وفکر کرنا شروع کر دینگے اور غور و فکر کیلئے مطالعہ کرنا سب سے پہلی شرط ہے ۔ جب تک معاشرے میں مطالعے کی کلچر کو عام نہیں کیا جائے گا ، اس وقت تک ہماری حالت بدلنے والا نہیں ۔ مکالمہ بھی غور و فکر کی دوسری شکل ہے ۔
ہمیں مطالعہ اور مکالمے کو معاشرے میں عام کرنا ہے۔
نسل کشی ، بے وطنی ، سیاسی و معاشی حقوق سے محرومی ، امتیازی سلوک اور قومی شناخت جیسے سنگین مسائل کے راہ حل پیش کرنے کیلئے ان کے وجوہات و اسباب پر غور وفکر کرنا لازمی ہے۔ درست غور و فکر کرنے کیلئے مطالعہ کرنا ایک ضروری عمل ہے کہ جس کے بغیر غور فکر کوئی معنا نہیں رکھتا ۔ لہذا کتاب کلچر اور مکالمے کو عام کئے بغیر اور بغیر مطالعہ نظریہ قائم کرنا خطرناک تو ہوسکتا ہے مفید نہیں ہوسکتا ۔ ہر عمل کی بنیاد نظریہ پر اور نظریہ کی بنیاد غور فکر پر اور غور و فکر کی بنیاد مطالعہ اور مکالمے پر ہے ۔ مکالمہ اور مطالعہ کسی فکر کی بنیاد ہوتی ہے جب تک بنیاد مضبوط نہیں ہوتا کوئی عمل قائم نہیں رہ سکتا لہذا اپنی عمل کو نظریہ کے بنیاد پر رکھے نظریہ در اصل غور وفکر کی آخری شکل ہوتی ہے ۔
لہذا نظریہ کے بغیر عمل کوئی معنی نہیں رکھتا۔


