جبری گمشدہ افراد کی ایف آئی آر بڑی مشکل سے درج ہوتی ہے، اراکین قومی اسمبلی

اسلام آباد (انتخاب نیوز) قومی اسمبلی نے فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2022 اور بین الحکومتی تجارتی لین دین بل 2022 کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی جبکہ فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2022 میں سردار اختر مینگل سمیت دوسری جماعتوں کے ارکان کے مطالبے پر بل میں سے ثبوت پیش نہ کرنے والے شکایت کنندہ کےلئے پانچ سال کی سزا کی شق حذف کردی گئی۔ جمعہ کو ایوان میں وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے تحریک پیش کی کہ سینیٹ کی جانب سے ترامیم کے ساتھ منظور کردہ مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898میں ترمیم کرنے کا بل فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2022زیر غور لایا جائے۔ تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ یہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے کہ گمشدہ افراد کی ایف آئی آر بڑی مشکل سے درج ہوتی ہے،اس بل کے تحت اگر کوئی شکایت کنندہ ثبوت پیش نہ کر سکا تو اس کے لئے بھی پانچ سال کی سزا ہوگی،لاپتہ افراد کے لواحقین کس طرح ثبوت دیں گے،ہمیں اس پر شدید اعتراض ہے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ بل مجموعی طور پر ٹھیک ہے مگر اس کی شق 514 کو نکالا جائے تو ہمیں باقی بل پر اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گمشدہ افراد کی بازیابی کے لئے حکومت کو خود اپنے وسائل بروئے کار لانے چاہئیں۔ اسامہ قادری نے بھی اختر مینگل کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ سالہا سال سے جن کے پیارے گمشدہ ہیں جو لوگ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے عدالتوں میں جاتے ہیں اس ترمیم کے ذریعے ان کے راستے مسدود کئے جارہے ہیں۔ محسن داوڑ نے کہا کہ قائمہ کمیٹی میں بھی اس شق پر میرا اختلافی نوٹ موجود ہے۔ وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ بل کے حوالے سے ارکان کی تشویش بجا ہے،حکومت نظرثانی کرے۔ وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم یہ شق حذف کرنے کے لئے تیار ہیں، امید ہے باقی بل پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ سپیکر نے ایوان سے تحریک کی منظوری حاصل کی جس کے بعد انہوں نے بل کی تمام شقوں کی منظوری حاصل کی۔ وفاقی وزیر سید نوید قمر نے بل کی شق 514 حذف کرنے کی ترمیم پیش کی جسے بل میں شامل کرلیا گیا۔ وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے تحریک پیش کی کہ فوجداری قوانین (ترمیم) بل 2022منظور کیا جائے ایوان نے بل کی منظوری دے دی۔اجلاس نے بین الحکومتی تجارتی لین دین بل 2022 کی اتفاق رائے سے منظوری دےدی ہے اس ضمن میں وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے تحریک پیش کی کہ سینیٹ کی جانب سے ترامیم کے ساتھ منظور کردہ غیر ملکی ریاستوں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی کاروباری تعلقات کے فروغ ، ترغیب اور حوصلہ افزائی کی بابت بین الحکومتی فریم ورک معاہدے کے تحت تجارتی لین دین کرنے کے نظام کےلئے قانون وضع کرنے کا بل بین الحکومتی تجارتی لین دین بل 2022 زیر غور لایا جائے۔ تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر نے نے بل کی تمام شقوں کی ایوان سے منظوری حاصل کی۔ وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے تحریک پیش کی کہ بین الحکومتی تجارتی لین دین بل 2022 منظور کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دےدی۔اجلاس میں قانون شہادت (ترمیمی) بل 2022 پر قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی اس ضمن میں قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین چوہدری محمود بشیر ورک نے قانون شہادت (ترمیمی) بل 2022 پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں