ہرنائی کی شاہراہیں سیلاب سے بری طرح متاثر، مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کو شدید مشکلات
ہرنائی (انتخاب نیوز) ہرنائی کی اہم شاہراہیں سیلاب کے باعث بری طر ح ،مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا، عوامی حلقوں کا جلد ازجلد شراہوں کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں ہونے والی بارشوں اور سیلاب کے باعث ضلع ہرانی کی اہم شاہراہ ہرنائی کوئٹہ جوکہ ضلع ہرنائی کی معشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے بارشوں اور سیلاب سے تباہ ہوئی ہے ہرنائی کوئٹہ مین شاہراہ جہاں روزانہ ہزاروں لوگ سفر کرنے کے علاوہ ہزاروں ٹن کوئلہ ٹرکوں کے ذریعے ملک کے مختلف علاقوں کو سپلائی کیا جاتا ہے بارشوں اور سیلاب سے مذکوہ شاہراہ خوست تا کچ موڑ تک مختلف مقامات پر سیلاب ریلے بہا کر لے گیا ہے شاہراہ کے دوبڑے پل زردآلو ندی پل اور مانگی ندی پل بھی سیلاب میں بہہ گیا ہے بارشوں اور سیلاب کے دوران شاہراہ کو عارضی طورپربحال تو کردیا گیا لیکن سفر کے قابل نہیں ہے ہرنائی کوئٹہ کا سفر صرف دو سے تین گھنٹے کا لیکن خستہ شاہراہ کے باعث اب یہ سفر چھوٹی گاڑیوں کےلئے پانچ سے چھ گھنٹے اور بڑی گاڑیوں کےلئے بیس گھنٹوں میں بمشکل طے کرنا پڑتا ہے خوست بازار سے کچ موڑ تک شاہراہ خاص کرکے ضلع ہرنائی کے انتظامی حدود میں کئی کلومیٹر شاہراہ سیلاب ریلے بہاکر لے گیا جو متبادل راستہ بنایا گیا ہے وہ صرف برائے نام ہے جہاں پر ٹریکٹر کا گزرنا بھی مشکل ہے لیکن باامر مجبوری گاڑیاں مذکورہ خستہ حال متبادل راستہ پر سفر کرتی ہےں۔ ہرنائی کے عوامی و سماجی حلقوں تاجروں زمینداروں ، ٹرانسپورٹروں ، کوئل مائینز اونرز ، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہرنائی کوئٹہ شاہراہ کی تعمیر ومرمت کی جائے انہوں نے کہاکہ ہرنائی کوئٹہ شاہراہ کچ موڑ تا ہرنائی اور ہرنائی سنجاوی شاہراہیں این ایچ اے کے ذریعے تعمیر کا ٹینڈر ہوچکا ہے اور کام بھی شروع ہوچکا تھا سیکورٹی خدشات کے پیش نظر شاہراہوں کی تعمیر اتی کام بند کیا گیا حکومت تعمیراتی کمپنی کو سیکورٹی فراہم کرکے شاہراہوں کی تعمیراتی کام پوری طورپر دوبارہ شروع کیا جائے خصوصاََ خوست تا مانگی ہوٹل تک شاہراہ کی تعمیر ومرمت کرنے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جائے اور شاہراہ پر گلیڈر چلایا جائے کیونکہ ہرنائی کوئٹہ شاہراہ انتہائی خستہ حال اور سفر کے قابل ہی نہیں ہے خستہ حالی کے باعث آئے روز شاہراہ پر ٹریفک حادثات بھی ہورہے ہیں جس میں کئی قیمتی جانے ضائع ہوچکی ہےں اورساتھ میں کوئلے لے جانے والے ٹرک خستہ حال شاہراہ کی وجہ سے خراب ہورہے ہیں جس سے ٹرانسپورٹروں کو کروڑوں روپوں کا نقصان ہورہا ہے خستہ حال شاہراہ کی وجہ سے کرایوں میں سو گناہ اضافہ ہوا ہے عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ شاہراہوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کرنے کےلئے صوبائی حکومت نے ہر ضلع کو پانچ پانچ کروڑ روپے ہر ضلع کو دینے کااعلان کیا تھا لیکن ضلع ہرنائی میں محکمہ بی اینڈآر شاہراہوں کی پوری مرمت کرنے کےلئے فنڈز اور مشنری کا بہانہ بنارہے ہیں کہ ہمارے پاس نہ تو شاہراہوں پر گلیڈر چلانے کےلئے فیول/ ڈیزل کےلئے فنڈز ہے اور نہ ہی بھاری مشنری موجود ہے عوامی و سماجی حلقوں کا حکومت ہرنائی کے خستہ حال شاہراہوں کا نوٹس لیکر فوری طورپراقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ضلع ہرنائی جوکہ قدرتی و زرعی وسائل مالا مال ضلع ہرنائی اور دوسری جانب سے ضلع ہرنائی سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ، اسمبلی کے ممبر وفاقی وزیر دفاعی پیدوار اور خواتین کی نشست پر کامیاب رکن اسمبلی صوبائی پارلیمانی سیکرٹری ہے لیکن اس کے باوجود ضلع ہرنائی کی شاہراہیں کھنڈر کا منظر پیش کررہی ہیں۔


