پچھلے الیکشن میں دو برگیڈیئرز نے بیٹھ کر پارٹی بنائی اور عوام پر مسلط کیا، پشتونخوا میپ
کوئٹہ : خان عبد الصمد خان اچکزئی نے برصغیر کی آزادی اور فرنگی کے قبضے سے نجات کے لیے سیاسی جدوجھد اور قومی تحریک کی داغ بیل ڈالی، پاکستان بننے کے بعد خان نے ملک میں قومی برابری، جمہوریت، آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ کیلئے روز اول سے اپنے سیاسی بیانیے کے تحت ملک کو پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی اور پنجابی اقوام کا حقیقی جمہوری فیڈریشن بنانے، ون مین ون ووٹ کے ذریعے منتخب پارلیمنٹ سے آئین بنانے کیلئے اپنا موقف دیا مگر بدقسمتی سے خان عبد الصمد خان کے سیاسی موقف کے برعکس ملک پر مارشل لاءلگا کر انہیں چودہ سال پابند سلاسل کیا گیا اور ملک کی سیاست میں مداخلت کرکے بنگال کی رائے دہی کے نتائج سے انکار کیا گیا اور اس کے بعد بھی ملک کی آئین کی دھجیاں اڑائی جاتی رہی اور ملک بار بار فوجی مارشل لاءکے تسلط کے ذریعے چلانے کی ناکام کوششیں کی گئی جس کے نتیجے میں آج ملک شدید بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین عبد الرحیم زیارتوال، پارٹی جنوبی پشتونخوا کے صوبائی صدر عبدالقہار ودان نے تین نئے ابتدائی یونٹوں کے حلف برداری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانے کا واحد حل آئین کی پاسداری اور آئین کے تحت ہر ادارے کو اپنی دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی سرانجام دینا ہوگا۔ جمہوری سیاست کے ذریعے عوام کو اپنے لیڈرشپ کو چننا ہوگا سیاست میں فوج کی مداخلت کا قلع قمع کرنا ہوگا اور اقوام کی وسائل پر انکا اختیار، ملک کو اقوام کی حقیقی جمہوری فیڈریشن بنانا ہوگا۔ خان عبد الصمد خان اچکزئی نے 23 مارچ 1940 قرارداد کی روشنی میں اقوام کی خودمختاری اور برابری کا بیانیہ دیا مگر اس سے انکار کی گئی۔ آج ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں جمہوریت کے لیے صدائیں بلند ہورہی ہے اور وہ سیاسی جماعتیں بھی خان عبد الصمد خان اچکزئی کے تاریخی سیاسی موقف کو دور اندیشی، بصیرت اور سیاسی جدوجھد کا واحد راستہ سمجھنے لگے ہیں جنہوں نے سیاسی غلطیاں کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین محترم محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ کے فلور پر بارہا یہی موقف بیان کرکے پاکستان کو حقیقی جمہوری فیڈریشن بنانے، فوج او جاسوسی اداروں کی سیاست میں مداخلت کا راستہ روکنے، اقوام کی برابری تسلیم کرکے انکی حق حکمرانی، سیاسی واک و اختیار کو عملی بنانے، بولان سے لیکر چترال تک پشتونخوا وطن کو متحد کرکے انہیں اپنی قومی شناخت دینے، وسائل پر اختیار، زبان، کلچر اور ملکی سیاست میں برابری دینا ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ پشتونخوا وطن پر رہنے والے ہر مسلک، مذہب، زبان کے لوگ اتنے ہی پشتون ہے، جتنے یہاں کے پشتون۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں دو برگیڈیئر نے بیٹھ کر پارٹی بنائی اور عوام پر مسلط کی گئی جس کی وجہ سے کرپشن کا بازار گرم، یہاں سماج دشمن عناصر کی سرپرستی ہورہی ہے اور وہ عوام پر مسلط ہے۔ مقررین نے کہا کہ پشتون بلوچ صوبے میں دو سیال اقوام کی برابری قائم کرنی ہوگی۔ مقررین نے کہا کہ پارٹی کے ادارے سوشل میڈیا کی کسی صورت پابند نہیں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر سیاسی غیر سنجیدگی کو برداشت کریگی کیونکہ پارٹی کے فورمز اور اداروں نے ہی پارٹی پالیسی دینا ہے اور کارکنوں نے اس کی پاسداری کرتے ہوئے پارٹی پالیسی کو آگے بڑھانا ہوگا۔ درایں اثناءپارٹی کے ضلعی ڈپٹی سیکرٹری کبیر افغان، علاقائی سیکرٹری فضل ترین، حاجی عثمان بادیزئی اور حاجی شینگل خان نے خطاب کیا اور ستار روڈ پر ابتدائی یونٹوں خلیل پلازہ اول اور خلیل پلازہ دوم کے نام سے حلف لیا گیا۔


