آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، اداروں کو جواب نہیں دے سکتے، پی ٹی آئی

لاہور (انتخاب نیوز) پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے۔ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماو¿ں اسد عمر، فواد چوہدری، شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر شیری مزاری نے پاک فوج کے ترجمان اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیا۔ فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کو خطرات تھے اور وہ چھپے ہوئے نہیں، انہیں خیبرپختونخوا حکومت نے بیرون ملک نہیں بھیجا۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آئی ایس پی آر کی نیوز کانفرنس سے دھچکا پہنچا، ہم اداروں کی نیوز کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’صدر مملکت کو ہم نے خط لکھا آپ سائفر کی تحقیقات کروائیں، آپ تحقیات کیوں نہیں کروا رہے، بھارتی وزیر دفاع نے پریس کانفرنس کی کہ ہم پاکستان سے ملحقہ کشمیر اور گلگت بلتستان لیں گے،پاکستان کی فوج کی عزت ضروری ہے وہیں پاکستان کے سیاست دانوں کی عزت بھی ضروری ہے‘۔ پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے کہا کہ فوج آئینی کردار میں رہنا چاہتی ہے یہ اچھی بات ہے،عمران خان نے کبھی چھپ پر انڈیا کے وزیر اعظم سے بات نہیں کی اور نہ عمران خان نے کبھی واشنگٹن اور لندن جا کر فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان فوج کے کچھ فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں، یہ انکا آئینی حق ہے، انہوں نے کبھی ایسی بات نہیں کی جس سے ارادہ کمزور ہو۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ آج پریس کانفرنس میں یہ کہا گیا کہ انہیں لانگ مارچ سے کوئی مسئلہ نہیں، یہ اچھی بات ہے۔ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فیصل واو¿ڈا کی پریس کانفرنس سے لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے ایک ناکام کوشش کی گئی،سرکاری ٹی وی نے کوریج دی، پول کھل گیا اس کے پیچھے کون سی قوت تھی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اس دن شروع ہوا جب تحریک عدم اعتماد کی تیاری شروع کی گئی،عدم استحکام ہم نے نہیں کیا، ہم اسکا حل پیش کر رہے ہیں،ہم کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کروائے جائیں، جب ہم سے سائفر کے بارے میں بات کی گئی تو کہا گیا کہ اسکا ڈیمارچ دینا چاہیے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر سائفر اتنا اہم نہیں تھا تو اس معاملے پر قومی سلامتی کا اجلاس کیوں طلب کیا گیا اور اس حوالے سے فیصلے کیوں کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مارچ پر امن، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیری مزاری نے کہا ہے کہ قتل سے تین منٹ پہلے میری ارشد شریف سے بات ہوئی وہ وطن واپس آنا چاہتا تھا۔ شیری مزاری نے کہا کہ ارشد سے آخری میسج پر بات ہوئی ا±س نے پاکستان آنے کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی جواب دیا تھا کہ انہوں نے میرے سر کی قیمت مقرر کردی ہے اس لیے میں چھپ رہا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں