حکومت بلوچستان مقامی حکومتوں کے قیام اوراختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کیلئے اقدامات کرے، اراکین اسمبلی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) اراکین بلوچستان اسمبلی،سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی نے حکومت بلوچستان پر زور دیاہے کہ مقامی حکومتوں کے قیام اوراختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کیلئے اقدامات اٹھائے،دنیا میں جہاں بھی ترقی ہوئی ہے اس میں مقامی حکومتوں نے اہم کردارادا کیاہے بلکہ تحقیق سے بھی ثابت ہواہے کہ ترقی کا منبہ مقامی حکومتیں ہے گلی کوچوں کے مسائل مقامی حکومتیں بہتر طریقے سے حل کرسکتی ہے اگر مقامی سطح پر حکومتوں کا قیام ہوں تو پھر یہ انہی حکومتوں کے درمیان مقابلے کا رحجان پیدا کرے گادنیا نے ترقی کیلئے ٹریفک پولیس نظام بھی مقامی حکومتوں کے حوالے کیاہے کیونکہ عوامی مزاج کے مطابق مقامی حکومتیں کام کررہی ہے معاشرے میں ترقی کے عمل کیلئے آسان قوانین کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں پروسیجر اتنا آسان بنانا چاہیے کہ اس کا عام آدمی کوفائدہ ہوں۔ان خیالات کااظہار سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹوز (سی پی ڈی آئی)کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی،پروجیکٹ کوارڈینیٹر سید رضا علی،رکن صوبائی اسمبلی احمدنواز بلوچ، صوبائی سیکرٹری بلدیات دوستین جمالدینی،سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی راحیلہ حمید درانی،پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر عالم خان کاکڑ، نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی احمدلانگو، الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید احسان شاہ،سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار،کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک عابد کاکڑ، ڈپٹی ڈائریکٹر وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جہاں آرا تبسم،قاسم خان مندوخیل ایڈووکیٹ ودیگر نے سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشیٹوز (سی پی ڈی آئی) کے زیراہتمام بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ2010ء پر اسٹیک ہولڈرز کا ڈائیلاگ کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے مختار احمد علی نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 140اے میں بیان کیاگیاہے کہ صوبائی حکومتیں الیکشن کمیشن کے ذریعے مقامی حکومتوں کے قیام کیلئے انتخابات کروا کر لوکل باڈیز منتخب کروائے گی بدقسمتی سے یہاں عام تاثر پایاجارہاہے کہ جیسی صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے قیام میں رکاوٹ ہے وہ نہیں چاہتی کہ لوکل گورنمنٹس بن جائیں آئینی طورپر صوبائی حکومتوں کی طرح لوکل باڈیز بھی بااختیار ہونی چاہیے،گلی کوچوں کے مسائل مقامی حکومتیں بہتر طریقے سے حل کرسکتی ہے اگر مقامی سطح پر حکومتوں کا قیام ہوں تو پھر یہ انہی حکومتوں کے درمیان مقابلے کا رحجان پیدا کرے گادنیا نے ترقی کیلئے ٹریفک پولیس نظام بھی مقامی حکومتوں کے حوالے کیاہے کیونکہ عوامی مزاج کے مطابق مقامی حکومتیں کام کررہی ہے انہوں نے سیاسی جماعتوں پرزوردیتے ہوئے کہاکہ مقامی حکومتوں سے متعلق عوام اور کارکنوں میں شعور کی ضرورت ہے وہ پارٹی کی سطح پر بااختیار مقامی حکومتوں کے نظام کیلئے کوششیں کرے،انہوں نے کہاکہ مقامی حکومتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی والا نظام ختم ہوناچاہیے کیونکہ اس سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید احسان شاہ نے بتایاکہ جب جنوری 2019ء میں مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہوئی تو الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں سے متعلق کام شروع کیا جس کے بعد آبادی اور ایکٹ کو جواز بناکر معاملہ عدالت میں چلا گیا 2021ء میں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کردیاہے آئین میں واضح ہے کہ مدت پوری ہونے کے بعد حلقہ بندیاں لازمی ہے،اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے وارڈز اور یونین کونسلز سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کری تھی ہم نے دوبارہ اپنا کام شروع کردیا بلوچستان میں پہلی مرتبہ لوکل گورنمنٹ کی مدت پوری ہونے کے بعد حلقہ بندیاں ہوئیں اس سلسلے میں عوام کو اعتراضات کیلئے موقع فراہم کیاگیا جس کے بعد بعض لوگ عدالت چلے گئے،29مئی کو صوبے بھر کے مختلف اضلاع میں لوکل گورنمنٹ باڈیز کیلئے انتخابات ہوئے تاہم حال ہی پہلا مرحلہ مکمل ہواہے جس کے بعد دوسرے مرحلے پر کام کاآغاز کیاجائے گا۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی احمدنواز بلوچ نے کہاکہ موجودہ اسمبلی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010ء منظور کی میں نے ناظم کے انتخابات جیتے جب نچلی سطح سے کوئی اوپر آتاہے تو انہیں بہترپتہ ہوتاہے،مقامی سطح پر حکومتوں کانظام مقامی مسائل بہتر انداز میں حل کرسکتی ہے،انہوں نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے بہت سے اجلاس ہوئے بحیثیت ممبر حزب اختلاف ہماری کوشش ہے کہ تمام قوانین اسٹینڈنگ کمیٹی یا اسمبلی فلور پر بحث کے بعد پاس ہوں تاکہ ایک موثر قانون بن سکے۔ صوبائی سیکرٹری بلدیات دوستین جمالدینی نے کہاکہ موجودہ حکومت نے بلوچستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ2010ء میں 41ترامیم کرکے اسمبلی سے پاس کرایاہے،جب کسی قانون پر اسٹیک ہولڈرز کی بحث ہوتی ہے تو اس سے قانون مزید بہتر ہوتاہے،دنیا میں جہاں بھی ترقی ہوئی ہے اس میں مقامی حکومتوں نے اہم کردارادا کیاہے بلکہ تحقیق سے بھی ثابت ہواہے کہ ترقی کا منبہ مقامی حکومتیں ہے،اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بہت سے ممالک بشمول یہاں مقامی حکومتوں کے قیام کو پنپنے نہیں دیاگیا انہوں نے کہاکہ جب پاکستان بنا تو اس وقت یہاں 1935ء کاقانون لاگو تھا پھر 1956ء میں پہلا قانون بنایاگیا جس میں وفاق،صوبہ اور پھر مقامی حکومتوں کی تشکیل ہونی تھی لیکن بعد میں ون یونٹ بنا جس سے پیچیدگیاں مزید بڑھ گئی،انہوں نے کہاکہ مقامی حکومتوں سے متعلق 18ویں ترمیم میں واضح کیاگیا انہوں نے کہاکہ بحیثیت سیکرٹری بلدیات جب سے عہدہ سنبھالاہے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کے قیام میں رکاوٹ ہوں،لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010ء کی ترامیم پر کام شروع کیا تو سیاسی جماعتوں کی مدد سے 41ترامیم کرائیں اور پھر انہیں اسمبلی سے پاس کی گئی،بلوچستان پہلا صوبہ ہوگا جس میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے علاوہ لوکل کونسل کے حوالے سے ترمیم شامل ہوگی،لوکل کونسل بورڈ کا چیئرمین سیکرٹری بلدیات ہوگا تاہم قانون میں بہتری کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔ہم نے ترمیم کے ذریعے ریسورسز کے ساتھ کل گورنمنٹ کیلئے باقاعدہ شیئرز رکھے جو اٹانومی صوبائی حکومت کودی گئی تھی وہ واپس محکمہ بلدیات کو دیدی گئی ہے،اس حوالے سے صوبائی کابینہ نے ہمیں مکمل سپورٹ کیاہے 80یا90کی دہائی دیکھیں تو اب ہم کافی بہتری تک پہنچے ہیں،انہوں نے کہاکہ مقامی حکومتوں کا الیکشن وقت پر ہوں تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی راحیلہ حمید درانی نے کہاکہ معاشرے میں ترقی کے عمل کیلئے آسان قوانین کی ضرورت ہے مقامی حکومتوں میں خواتین،اقلیتوں ودیگر کی نمائندگی سے ہی نظام کی بہتری میں مدد ملے گی لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2010ء کی اردو میں ترجمہ کرکے عوام میں شعور وآگاہی کی ضرورت ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر عالم خان کاکڑنے کہاکہ بدقسمتی کہیں یا خوش قسمتی 2010ء کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ صرف کاغذوں کی حد تک خوبصورت ہے لوکل باڈیز کی مدت ختم ہونے کے بعد ایک ملازم کو تعینات کیاجاتاہے اور پھر انہیں اتنا پریشرائز کیاجاتاہے کہ وہ صرف نوکری بچانے کیلئے تگ ودو کرتاہے مقامی حکومتوں کا مطلب ہی یہی تھا کہ وہ عوام کی گلی کوچوں کے مسائل کے حل کرے جب ایک سرکاری آفیسر ایڈمنسٹریٹر بن جاتاہے تو پھر وہ کیسے اتنی بڑی آبادی کے مسائل حل کرسکتاہے ضروری ہے کہ جلد سے جلد انتخابات کروا کراس مسئلے کو حل کیاجائے تاکہ کوئٹہ شہر کی جگہ جگہ کچرے کی ڈھیر اور نالیوں کی بندش کے مسائل ختم ہوں۔ نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی احمدلانگونے کہاکہ مقامی حکومتیں ہمیشہ جمہوری دور حکومت میں زیر عتاب رہی ہے یہاں جب مقامی حکومتوں کے اختیارات زیادہ تھے تو ایم پی اے یا ایم این اے کی نشست کیلئے الیکشن لڑنے والامقامی حکومتوں کو فوقیت دیتاتھا۔جب آپ کے ہاں طلباء کی سیاست،ٹریڈ یونینز پر پابندی اور مقامی حکومتوں کے انتخابات وقت پر نہ ہوں توپھر نئی قیادت نہیں ہوتی۔سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار نے کہاکہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ دو چیزوں پر متفق نظرآتی ہے ایک فنڈز اور دوسرے اختیارات،بلوچستان میں اختیارات کی عدم منتقلی پر بھی یہاں کی سیاسی جماعتیں متحد نظرآئی ہے آج بلوچستان میں نمبرز کے حساب سے مضبوط اپوزیشن ہے لیکن حکومت کے سونے کے باوجود اپوزیشن خاموش ہے کیونکہ عوامی فنڈز میں اپوزیشن کو مکمل حصہ دیاگیاہے،گزشتہ 15سے20سالوں میں ہر گھر میں صرف ٹھیکیدار پیدا ہوئے ہیں تاکہ ٹھیکے اپنے رشتہ داروں کو دی جاسکے۔کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک عابد کاکڑنے کہاکہ دنیا میں مقامی حکومتوں کے ذریعے ہی نظام چلایاجارہاہے اگر فنڈز کی فراہمی،اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور بروقت انتخابات نہ ہوں توپھر نظام ٹپ ہوجاتاہے ہمیں پروسیجر اتنا آسان بنانا چاہیے کہ اس کا عام آدمی کوفائدہ ہوں۔ قاسم خان مندوخیل ایڈووکیٹ نے کہاکہ آئین پروسیجر لاء نہیں بلکہ پروسیجر لاء بنانا صوبوں کی ذمہ داری ہے 2010ء ایکٹ مفصل ہے لیکن ترامیم کی ضرورت ہے پاکستان یا بلوچستان میں بہت سے قوانین موجود ہے لیکن عمل درآمد نظر نہیں آتا۔ضروری ہے کہ عمل درآمد کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ جہاں آرا تبسم ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں