پاکستان کو سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،3کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے، عالمی بینک

اسلا م آباد:عالمی بنک نے قدرتی آفات کو پاکستانی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے، حالیہ سیلاب پاکستانی پالیسی سازوں کے لیے ویک اپ کال ہیں،2050 تک پاکستان کی معاشی ترقی کو 15 سے 20 فیصد تک نقصان کا تخمیہ ہے، پاکستان کو زراعت اور توانائی کے شعبے میں ٹارگٹڈ سبسڈی سمیت ایگری فوڈ سسٹم، شہری سہولیات اور توانائی کے شعبے میں بہتری کی اشد ضرور ت ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سے متعلق کنٹری کلائمیٹ ڈیولپمنٹ رپورٹ میں عالمی بینک نے قدرتی آفات کو پاکستانی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔ عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ میں حالیہ سیلاب کو پالیسی سازوں کے لیے ویک اپ کال قرار دیا گیا ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ترقی اور غربت میں کمی کی کوششوں کے لیے قدرتی آفات انتہائی نقصاندہ ہے۔ رپورٹ میں شہروں میں سرمایہ کاری کے لیے میونسپل اور پراپرٹی ٹیکس لگانے پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2050 تک پاکستان کی معاشی گروتھ کو 15 سے 20 فیصد تک نقصان کا تخمیہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں زراعت اور توانائی کے شعبے میں ٹارگٹڈ سبسڈی سمیت 5 اصلاحات کو ضروری قرار دیا گیا اور پاکستان میں ایگری فوڈ سسٹم، شہری سہولیات اور توانائی کے شعبے میں بہتری پر زور دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں