کالج اساتذہ نئے اور پرانے لیکچررز کی تفریق سے بالاتر ہو کر جدوجہد کریں، بی پی ایل یکجہتی پینل
کوئٹہ ( پریس ریلیز ) بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت کے لیے ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ تمام اساتذہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور مسائل اور مشکلات کو ختم کرنے کی دیر پا پالیسیوں کی ضرورت ہے اس کے لیے حکام بالا کی نیک نیتی کے علاوہ کالج اساتذہ کے پرخلوص اساتذہ کے نمائندوں کا انتخاب بھی لازمی ہے۔یکجہئتی پینل کے قائدین کا خضدار’ہرنائی’موسی خیل’قلعہ سیف اللہ اور دیگر بوائز و گرلز کاجز کے دورے کے موقع پر خطاب۔اس موقع پر پروفیسر طارق بلوچ نے کہا کہ یکجہتی پینل تمام تر صلاحیتوں سے مالا مال ہے خصوصا فراست، دیانت اور دور اندیشی کی بنیاد پر قابل عمل اور ٹھوس حوالوں سے تیار کردہ منشور اور اہداف سب کی باوقار اور آبرومندانہ انداز میں پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کو یقینی بنانے سے بھرپور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یکجہتی پینل نے اس سے قبل بھی برادری کے لیے ایک اجتماعی فلاح و بہبود کو ترجیحات میں رکھ کر مسائل کے حل کے لیے کسی بھی قسم کی سودہ بازی پاک جد و جہد کی ہے۔ پروفیسر طارق بلوچ نے کہا کہ انہوں نے نہ اس سے پہلے اور اس کے بعد استاد کے منصب سے کم تر کسی بھی معاملے میں برادری کے وقت کو ضائع نہیں کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ ایسوسی ایشن کے وسیع البنیاد پروگراموں کے مثبت اثرات کو ہر سطح پر ناگزیر سمجھا وگرنہ روزمرہ کے معمولات کا کریڈٹ لینا کسی بھی بڑے مینڈیٹ کی توہین ہوتی ہے۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر طارق بلوچ نے چار سالہ پروگرام بی ایس کو ہر لحاظ سے وسائل سے مالا مال لیکن مسائل کے گڑھ بلوچستان کے لیے شاندار مستقبل اور بے مثال ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ حالیہ کامیاب کابینہ نے بی ایس کے لیے جامع فنانشل پیکیج کے لیے ورکنگ پیپر بھی تیار کرکے ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرادئیے ہیں۔ انہوں نے کہا پانچ کروڑ روپے ریسرچ گرانٹ کے طور پر منظور ہوچکے ہیں جسے سیڈ منی کے طور رکھے جارہے ہیں تاکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی یکساں طور پر ریسرچ سے وابستہ اساتذہ پر کئے جائیں۔ ملازم مزدور تحریک کے ہر دلعزیز رہنما اور جنرل سیکرٹری کے لیے نامزد امیدوار پروفیسر رازق الفت کاکڑ نے کہا کہ یکجہتی پینل فرائض کو ادا کرنے و حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں توازن پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے مقدس پیشے سے وابستہ تمام دوستوں کو تمام طالع آزما اور مہم جو عناصر سے با خبر رہنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام تر لالچ اور وقتی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے برادری کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کئے جائیں تاکہ آئندہ دوسال کے لیے کسی قسم کے پچھتاوے اور افسوس سے بچا جاسکے انہوں نے کہا کہ نئے اور پرانے لیکچررز کی تفریق سے اجتناب کرتے ہوئے ایک کا دکھ سب کا دکھ کے فارمولے کے مطابق اعلی روایات کی بنیاد پر بلا تفریق عہدہ و گریڈ اور علاقہ و لسان جدوجہد کو تیز کرنا چاہئیے۔ پروفیسر طارق بلوچ نے کہا کہ یکجہتی پینل اپنے نام کے مطابق سب کو ساتھ لے کر چلنے میں بہتری سمجھتا ہے وگرنہ پیش آمدہ صورت ِ حال میں کسی بھی قسم کی تفریق سے بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔ پروفیسر طارق بلوچ نے یکجہتی پینل کے حوالے سے تمام دوستوں کی حمایت اور محبت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ 24 نومبر کو برادری اپنا حق رائے دہی اپنے اور آئندہ آنے والی نسلوں کے درست انداز میں استعمال کرے گی اور اس سلسلہ میں یکجہتی پینل کے پیغام کو آگے پینچاتی رہے گی۔


