قومی میڈیا بلوچ دشمنی پر اتر آیا ہے،ہدایت الرحمن
گوادر ( بیورو رپورٹ ) حق دو تحریک بلوچستان کے وائ Y چوک پر منعقدہ احتجاجی دھرنا کو 17 دن مکمل ہو گئے ۔ قومی میڈیا کیخلاف زبردست نعرہ بازی کی گئ ۔ اتوار کے دن بچوں کی ریلی نکالی جاۓ گی ۔ سترھویں روز احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ھوۓ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ھدایت الرحمن نے کھاکہ قومی میڈیا بلوچ دشمنی پر اتر آیا ہے ۔ گزشتہ سال ھمارے دھرنا کے وقت قومی میڈیا کترینہ کیف کی شادی میں مصروف تھی اس سال ثانیہ مرزا کی طلاق میں مصروف ہے ۔بلوچوں کے لیۓ قومی میڈیا کے پاس کوئ وقت نہیں ہے اور نہ ہی انکے پاس ھماری کوئ اھمیت ہے ھمارے ساتھ ھر وقت اسی طرح ھوتا ہے ۔ اسلام آباد والوں نے بلوچوں پر کب توجہ دیا ہے جو یہ أج دینگے ۔ انھوں نے کھاکہ نواز شریف نے اپنے وزارت عظمی کے گوادر کے پہلے پہلے دورے پر گوادر کے لیۓ بھت بڑے بڑے اعلانات کیۓ یہاں کے لوگ خوش ھوۓ کہ اب ھماری زندگیاں تبدیل ھونگے ھم ترقی کرینگے لیکن اس دن سے لیکر آج تک چالیس سال کا عرصہ ھوگیا گوادر وہی کا وہی ہے ۔ شہباز شریف اپنے وزارت عظمی کے دونوں دفعہ گوادر کے دورے پر صرف سعودی عربیہ کے شکریہ ادا کرنے آگۓ ۔ انھوں نے کھاکہ دنیا زمین سے آسمان تک جا پہنچی ہے اور نۓ نۓ ٹیکنالوجی ایجاد کررہی ہے لیکن ھمارا مسلہ آج بھی کھمبہ ۔ ٹرنسفارمر اور گٹر ہے جو حکمرانوں اور یہاں کے ایم پی اے کے لیۓ ڈوب مرنے کی بات ہے ۔ چالیس سالوں سے گوادر پر حکمرانی کرنے والے ایک پاھپ لاھن بچھانے پر مبارکباد وصول کرکے خوش ھورہا ہے ۔ پاکستان کے حکمران انتہائ نااھل ہے۔ جو لوگ پاکستان میں ھماری حکمرانی کررہے ہیں وہ امریکہ و لندن جاکر ھوٹلوں میں بہرے کے کام کرتے ہیں ۔ یہ پاکستان کی بدنصیبی ہے کہ اس ملک میں کرپٹ نظام ہے ۔ انھوں نے کھاکہ حق دو تحریک کے دھرنے سے ایم پی اے اور محکمہ فشریز کو خیال آیا کہ ماھیگیروں کی سابقہ فیسوں کو بحال کردیاجاۓ ۔ گزشتہ ایک سال سے کسٹم والے ماھیگیروں کو تنگ کررہے ہیں لیکن انکی کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی تھی ۔ حق دو تحریک کے دھرنے کے بعد انکو خیال آیا۔ انھوں نے کھاکہ تینوں شراب خانوں کو فی الحال سیل کردیاگیا ہے ۔ چیک پوسٹ ختم کردیۓ جاھینگے ۔ بارڈر پر أزادانہ کاروبار ھوگی ۔ محکمہ فشریز 15 ٹرالر پکڑے گی ۔ کوسٹ گارڈ لوگوں کے گاڈیوں اور کشتیوں کو چھوڈے گی ۔ ضلع گوادر کے تمام بند اسکولوں کو کھول دیا جاۓ گا تب بات کرنے کو تیار ھونگے ۔ انھوں نے کھاکہ ھماری احتجاج سے حکمرانوں کی نیندیں حرام ہیں ۔ اتنی پروپگنڈہ اور مخالفت کے باوجود کارکنان جس جزبے سے بیٹھے ہیں انکی اسی جزبہ ۔ جرات و ھمت کو سلام پیش کرتا ھوں ۔ ھماری صبر کو آزمایا جارھا ہے ۔ انھوں نے کھا کہ گوادر کے گراؤنڈ بلدیہ گوادر کی ملکیت ہیں ڈپٹی کمشنر کردار ادا کرکے ان گراؤنڈ کو اسپورٹس مینوں کے حوالے کریں وگرنہ جس دن حق دو تحریک کے چیئرمین نے اپنا سیٹ سنبھالا تو ھم خود گوادر کے تمام گراؤنڈ کو آرمی سے لیکر اپنے حوالے کرینگے اور آرمی کے کرنل و بریگیڈیئر کو بھی واک کرنے کے لیۓ ھم سے اجازت لینی پڑیگی ۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے گھاس کی حفاظت کرنا نہیں ہے۔ انھوں نے کھاکہ 20 نومبر کو ھم نے فیصلہ کن جنگ کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا اور کارکنان 20 نومبر کی بھرپور تیار کریں اور بلوچستان بھر سے بھی لوگ آخر اس احتجاج میں شامل ھوں ۔ دھرنے میں قومی میڈیا کیخلاف بھی شدید نعرہ بازی کی گئ اور دھرنا میں اعلان کیا گیا کہ آج صبح دس بجے عمر بن خطاب مسجد سے لیکر دھرنا گاہ تک بچوں کی ایک ریلی نکالی جاھیگی ۔ دھرنے سے سنیئر سیاستدان حسین واڈیلہ ۔ حفیظ کھیازئ ۔ شریف میانداد ۔ عابد جی ایم اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔


