ایران میں 9 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد پرتشدد مظاہروں میں شدت آگئی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے ملک کے اندر جاری پْرتشدد مظاہروں کے حوالے سے خاموشی پر عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو اخلاقی پولیس کے زیر حراست مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑے تھے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے غیر ملکی دشمنوں پر بدامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے، جس میں برطانیہ، اسرائیل اور امریکا شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 16 ستمبر کو 22 سالہ مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں غیریقینی صورت حال پیدا ہوگئی تھی جو کئی برسوں بعد ایران کے مذہبی حکمرانوں کے لیے پریشان کن صورت حال کا باعث بن گئی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو ایران کے متعدد شہروں میں تخریب کاری کی کارروائیوں کی صورت میں افراتفری اور تشدد کو فروغ دینے والے غیر ملکیوں کی دانستہ خاموشی پر تنقید کی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے بیان میں بتایا کہ یہ عالمی برادی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران میں حالیہ تخریب کاری کی مذمت کریں اور انتہا پسندوں کو محفوظ پناہ فراہم نہ کریں۔ خیال رہے کہ ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران گزشتہ روز ایرانی پولیس کی فائرنگ سے 9 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد مظاہروں میں ایک بار پھر شدت اختیار آگئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں