جن محکموں کی سربراہی خواتین کے پاس ہے ان کی کارکردگی بہتر ہے، ثمینہ ممتاز زہری

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلو چستان عوامی پارٹی کی نائب صدر وسینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ معاشرے میں خواتین کے کردارسے کسی صورت انکار ممکن نہیں۔پاکستان ترقی پذیر ملک ہے جس کی نصف سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ خواتین معاشرے کی فعال شہری ہیں انہوں نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا ہے اور ملکی ترقی میں خواتین کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دینے والی خواتین کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن گھروں میں پڑھی لکھی خواتین ہیں اور وہ خواتین اپنی جملہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتی ہیں وہی گھرانے معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی ترقی میں پڑھی لکھی خواتین کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ جن دفاتر یا شعبوں میں خواتین خدمات انجام دیتی ہیں ان کی کارکردگی ان دفاتر سے بہتر ہوتی ہے جہاں خواتین کام نہیں کرتیں۔ آج خواتین مختلف شعبہء زندگی میں اپنا بہترین کردار ادا کر رہی ہیں جس کے اثرات بھی بتدریج معاشرے میں دکھائی دے رہے ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ خواتین میں قدرتی طور پر وہ خصوصیات پائی جاتی ہیں جو نہ صرف نسلوں کی آبیاری کرتی ہیں بلکہ ان پر بہت زیادہ اثرات بھی مرتب کرتی ہیں۔اسلامی تاریخ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسمیت بہت سی مسلم خواتین ہیں جن کا معاشرے کے ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار رہا ہے۔خواتین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی خاطر خواہ خدمات انجام دینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ آج کل مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خواتین بطورسربراہ اور سیکرٹری خدمات انجام دے رہی ہیں اور جن محکموں کی سربراہی خواتین کے پاس ہے ان محکموں کی کارکردگی اُن محکموں سے بہت بہتر ہے جن محکموں کی سربراہی خواتین کے پاس نہیں ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے معاشرے میں خواتین کو عزت دی جائے،ان کا احترام کیا جائے اور صنفی امتیاز سے بالا ترکر کے انہیں معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کے بھر پور مواقع دئیے جائیں۔ وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کریں۔ ترقی کی دوڑ میں جیت کے خواہشمند ملکوں کو خواتین کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے صنفی امتیاز کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں وہ تمام حقوق اور مراعات دینا ہوں گی جو ان کا حق ہے۔تمام شعبوں میں تقرری صنفی بنیادوں کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر کرنا ہو گی۔ساتھ ہی خواتین کو ہراساں کرنے کے مسئلے پر بھی قابو پانا ہو گا۔ معیشتوں اور معاشروں کی ترقی کے لئے صنفی مساوات ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم حصہ اور بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لئے بھرپور کام کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کسی بھی معاشرے کا اہم ستون ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، معاشرے کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار ہے اور کوئی بھی معاشرہ خواتین کی شرکت کے بغیرترقی نہیں کر سکتا۔ پاکستان کی نصف آبادی یعنی خواتین کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے جس کے لئے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی اور اس سلسلے میں قوانین میں بہتری کے لئے کام کیا جارہا ہے جس کے مثبت اثرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں