خود کفیل بلوچستان پر بسنے والے باسیوں کو سامراجی قوتوں نے بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے، مولانا عبدالقادر لونی
کوئٹہ(انتخاب نیوز) جمعیت علما اسلام نظریاتی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی، صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالاحد کبدانی، نائب امیر مولانا محمد حیات ،نائب امیر سید حاجی عبدالستارشاہ چشتی، نائب امیر مفتی رحمت اللہ خلجی ،صوبائی سرپرست مولانا خدائے نظر، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبیداللہ حقانی، ضلعی امیر گوادر شیر جان صالح ،صوبائی سیکرٹری اطلاعات مولوی رحمت اللہ حقانی نے کہاہے کہ حکومت کی نااہلی سے سی پیک کی جھومر گوادر کی باسی آج اپنے بنیادی مسائل کے لیے بھیک مانگ رہی ہے ایک طرف سے گوادر سی پیک کے ماتھے کا جھومر کہا جارہا ہے دوسرے طرف سے بنیادی مسائل کی وجہ سے گوادر کے رہائشیوں کو سڑکوں کی نکلنے پر مجبور کیا جارہا ہے دنیا کی سب سے بڑی پراجیکٹ سی پیک پروجیکٹ سے وہاں کے لوگوں کو آج تک کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے جبکہ گودار میں غیر مقامی لوگوں کو نوکریوں سے نوازا جارہا ہے ٹرالرز مافیا نے غیرقانونی فشنگ کی وجہ سے سمندری حیاتیات کی نسل کشی اور ماہی گیروں کا استحصال کیا جارہا ہے خود کفیل سرزمین بلوچستان سونے چاندی کی سرزمین پر بسنے والے باسیوں کو سامراجی قوتوں نے بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ وفاق نے سی پیک منصوبوں پر ہمیشہ بلوچستان کو ٹرخایا گیا سی پیک کی تمام منصوبوں کو ایک صوبے تک محدود کر چکے ہیں اور گودار کو پینے کی پانی تک میسر نہیںاٹھارویں ترمیم میں وسائل پر صوبوں کی حق ملکیت دینے کی باوجود بلوچستان اپنے ساحل اور وسائل پر اختیارات سے محروم رکھا ہے بلوچستان کی ساحل وسائل اور معدنیات پر وفاق اپنا حق دیتے تو پسماندہ صوبے اقتصادی ترقی اورخوشحالی سے ہمکنار ہوتا انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے کی وسائل پر تحفظات اور خدشات کو دور کرنے کے لیے عملی اقدام اٹھائے سی پیک اور خصوصا مغربی روٹ ایک نئی جہت اور نئے وژن سے معاشی ترقی آسکتی ہے زونز میں نئی انڈسٹریز کے قیام سے نوجوانوں کوروزگار کے مواقع مل جائینگے اور صوبہ میں بے روزگاری جیسے سنگین مسئلہ کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ بلوچستان میں معدنیات، ماہی گیری اور آئل و گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔وفاق بلوچستان کے عوام کو ان شعبوں میں روزگار کے مواقع کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کرے۔


