افغانستان کیلئے 8000 ٹن کھاد لیکر بحری جہاز گوادر پورٹ پر لنگرانداز ہوگیا

گوادر(انتخاب نیوز)افغانستان کے لئے 8000 ٹن کھاد لیکر بحری جہاز گوادر پورٹ پر لنگرانداز ہوگیا،کھادبذریعہ سڑک افغانستان کو ترسیل کردی جائے گی تفصیلات کے مطابق گوادر کی اہم بندرگاہ کے ذریعے افغانستان ٹرانزٹ کی مد میں کھاد کی ترسیل ایک بار پھر شروع کردی گئی ہے 2022ء میں افغانستان ٹرانزٹ کے حوالے سے تجارتی سر گرمیوں میں تیزی آرہی ہے جو کہ عنقریب وسطی ایشیائی ریاستوں کو گوادر اور چین سے جوڑنے کی طرف اہم قدم ثابت ہوگا۔ واضح رہے کہ گوادر کی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان ٹرانزٹ کی مد میں تجارتی سامان کی ترسیل کا کام 2020ء سے جاری ہے گزشتہ ہفتے 8000 ٹن کھاد سے لد ا ایک جہاز گوادر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوئی ہے یہ جہاز اے پی سیویٹی ولہو(AP Sveti Vlaho)کی غیر ملکی کمپنی کی ہے تمام کھاد کچھ روز میں گوادر کی بندرگاہ سے بذریعہ سڑک افغانستان کی طرف روانہ کر دی جائے گی۔گوادر میں کھاد کی ایک فیکٹری زیر تعمیر ہے جو فروری 2023ء تک اپنی پیداوار شروع کر دے گی اس کے ساتھ ہی متعدد کھاد تیار کرنے والے اور درآمد کنندگان نے گوادر پورٹ اور فری زون کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔اس سے قبل2021ء میں مجموعی طور پر 500 ٹن کھاد بندرگاہ کے گودام سے پاکستانی ٹرکوں کے ذریعے بھیجی گئی تھی اپریل2020ء میں وفاقی حکومت نے گوادر پورٹ پر کھاد کی درآمد اور بانڈڈ کیریئرز کے ذریعے بیمہ شدہ اور سیل کیے جانے والے ٹرکوں کے ذریعے ٹریکنگ ڈیوائس کے ذریعے افغانستان جانے کی اجازت دی تھی جو وزارت تجارت نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘پاکستان‘افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘ گوادر انٹرنیشنل ٹرمینلز لمیٹڈ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی درخواست پر جاری کیا گیا ماہر اقتصادیات شاہد حسین نے بتایا کہ جب چین، افغانستان اور دیگر وسطی ایشیائی معیشتیں زمینی راستوں کے ذریعے گوادر سے منسلک ہوں گی تو پاکستان نقل و حمل کی اپنی حقیقی صلاحیت تک پہنچ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں