ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کیلئے پنشن کے حصول میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں، سکندر ایڈووکیٹ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان اسمبلی کااجلاس میں قرار داد پیش کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ صوبائی محکموں کے افسران و اہلکاران جب اپنی مدت ملازمت 60سال مکمل کرنے کے بعد اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو جاتے ہیں تو اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کی ٹیکنیکل خلاف ضابطہ رکاوٹوں کے باعث پنشن اور دیگر واجبات کے حصول کی بابت انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے حالانکہ پنشن شدہ افسران و اہلکاران کا ریکارڈ اور سروس بک بھرتی کی تاریخ سے لیکر ریٹائر منٹ تک متعلقہ محکمے کے پاس موجود ہوتا ہے۔ پنشن و دیگر واجبات کی ادائیگی میں رکاوٹ ڈالنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ ہمارے معاشرے کے سینئر سٹیزن اور معمر بزرگ ریٹائر افسران و اہلکاران کی تذلیل کے مترادف ہے۔ لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ بلوچستان کے تمام صوبائی محکموں کو فوری طور پر خصوصی احکامات صادر فرمائیں کہ وہ صوبے کے کسی بھی محکمہ کے افسرو اہلکار کی ریٹائرمنٹ پر ان کے پنشن و دیگر تمام واجبات کا چیک اسی دن باعزت طریقے سے حوالے کرنے کو یقینی بنانے کی خاطر لائحہ عمل طے کرنے کو یقینی بنائیں تاکہ صوبے کے ریٹائرڈ ہونے والے افسران و اہلکاران میں پائی جانے والی بے چینی اور مشکلات کا ازالہ ممکن ہوسکے۔ قرار داد کی موضونیت پر بات کرتے ہوئے ملک سکندر ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بزرگوں کا احترام کیا جاتا ہے روز اول سے معاشرے میں اخلاقی اقدار کا فروغ دیا جاتا ہے ہم اپنے بزرگوں اور معمر شہریوں کی تذلیل کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین جب 60سال کی عمرمیں ریٹائر ہوتا ہے تو انہیں پنشن، گریجویٹی سمیت دیگر واجبات کے حصول کے لئے متعلقہ دفاتر میں خوار ہونا پڑتا ہے، فلاحی معاشروں میں اس طرح نہیں کیا جاتا ہونا تو یہ چاہیے کہ جو ملازم ریٹائر ہو اسے متعلقہ محکمہ ریٹائرمنٹ کے روز ہی چیک حوالے کرے۔ انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری کی جانب سے تمام محکموں کو اس حوالے سے ہدایات جاری کریں۔ اس موقع پر بی این پی کے رکن احمد نواز بلوچ نے اپنی جماعت کی جانب سے قرار داد کی حمایت کی۔ایوان نے قرار داد کو منظور کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں