آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو یونین کے زیر اہتمام مزدوروں کامطالبات کے حق کیسکو آفس کوئٹہ میں دھرنا

کوئٹہ (انتخاب نیوز) آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) کے زیر اہتمام مزدوروں کااپنے مطالبات کے حق میں اور مسائل کے حل کیلئے چیف ایگزیکٹو آفس کیسکوکوئٹہ میں دھرنا دیا گیا۔دھرنے سے یونین کے مرکزی جوائنٹ صدر و صوبائی چیئرمین محمد رمضان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیسکو کے مزدوروں نے حالیہ سیلابی بارشوں میں سب سے زیادہ کام کرتے ہوئے بجلی کی بحالی میں اپنا کردار ادا کیا اس دوران دالبندین میں کیسکوکے کارکن زاہد امام شہیدہوئے، ژوب میں کرنٹ لگنے کی وجہ سے حبیب اللہ لائن مین کے دونوں بازو کاٹ دیے گئے اور اسی طرح کئی کارکن معذوری کے حالات میں ہسپتال میں زیر علاج ہیں اورکیسکو ہیڈ آفس میں شہداء کے مینارپراس سے پیشتر 130 کارکنوں کی شہادتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ صوبہ بلوچستان میں مزدوروں کی قربانیوں کی وجہ سے بجلی چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں انہوں نے وفاقی وزیر مملکت پاور ڈویژن محمدہاشم نوتیزئی سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ سیلاب سے سب سے زیادہ بلوچستان اور سندھ کے مزدور متاثر ہوئے ہیں لیکن صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر اور سیکریٹری پاور ڈویژن نے پنجاب میں ڈسٹری بیوشن کی پانچ کمپنیوں کے 80 ہزار مزدوروں کو ایک ماہ کا اعزازیہ دے دیاہے لیکن کیسکو کے چھ ہزار سے کم مزدور جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں کام کرتے ہوئے سب سے پہلے بلوچستان میں بجلی بحال کی تھی وہ تاحال اس اعزازیے سے محروم ہیں اور صوبہ بلوچستان کے مزدوروں کو افسوس ہو رہا ہے کہ سردار عطاء اللہ مینگل اور سردار اختر مینگل کے پروکار ہوتے ہوئے وہ صوبے کے مزدوروں کے جائز مسائل حل نہیں کرپارہے ہیں انہیں بتایا گیاکہ کیسکو میں پانچ ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں اور کئی سب ڈویژنز اور گرڈ اسٹیشنز کی نئی پوسٹوں کی منظوریاں نہیں ہوئی ہیں اور یہ تمام کام چھ ہزار سے کم ملازمین صوبے میں سرانجام دے رہے ہیں۔یونین رہنماء نے وفاقی وزیر مملکت کو بتایا کہ اسٹاف، پی پی ای، ٹی اینڈ پی اور گاڑیوں کی کمی اور بکٹ گاڑیوں اور کرین کی عدم موجودگی کی وجہ سے آئے روز کارکنوں کے حادثات رونماء ہو رہے ہیں اس کے علاوہ عدالت عالیہ بلوچستان کی سی پی نمبر 555/2005 اور چیف سیکریٹری کے ساتھ دو میٹنگز میں دی گئیں ہدایات کے مطابق تمام ضلعوں کا ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز بجلی چوری روکنے اور ریکوری اہداف حاصل کرنے میں کیسکو کے ملازمین کو سیکورٹی فراہم نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اب تک کیسکو کے منظور شدہ 06 لاکھ کنکشن سے دوگنے غیر قانونی کنکشن صوبے میں چل رہے ہیں جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی بنا ہواہے اور ریکوری کا یہ حال ہے کہ ایک ارب سے ڈیڑھ ارب تک ریکوری ہو رہی ہے اور ہر مہینے سات سے آٹھ ارب روپے کیسکوکے ڈوب رہے ہیں اس لیے کیسکو کے صارفین کے ذمے بقایاجات اس وقت 491 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر مملکت پاور ڈویژن سے کارکنوں کی پروموشن، اپ گریڈ ایشن، ان کی رہائش کیلئے مکانات، فلیٹس تعمیر کرنے، میرج گرانٹ اور دیگر بقایا جات کی ادائیگی کرنے سمیت دیگر کیسز پر جلد فیصلے کیلئے کیسکو انتظامیہ کو ہدایات جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور آج کے دھرنے سے پہلے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز انجینئر عبدالوہاب مگسی اور ان کے ساتھ نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بھی ان تمام مسائل کے حل کیلئے مطالبہ کیا گیاتھا وفاقی وزیر مملکت، چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کیسکو کو بتایا گیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر حل نہیں کیے جاتے تو کیسکو کے ملازمین راست اقدام اٹھائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری وزارت پاور ڈویژن، کیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور کیسکو انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ اس موقع پر یونین کے وائس چیئرمین عبدالباقی لہڑی، سیکریٹری عبدالحئی، جوائنٹ سیکریٹری محمد یار علیزئی، فنانس سیکریٹری ملک محمد آصف اعوان، سیکریٹری نشر و اشاعت سید آغا محمد اور دیگر زونل عہدیداروں نے بھی خطاب کیا مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی گئی بعد ازاں دھرنے میں وفاقی وزیر مملکت محمد ہاشم نوتیزئی نے اپنے پارٹی رہنماؤں ایم پی اے نصیراحمد شاہوانی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شرکت کی اور دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مزدوروں کو یقین دلایا کہ ان کے ساتھی سردار عطاء اللہ مینگل اور سردار اختر مینگل کی سربراہی میں صوبے کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر انہوں نے بلوچستان میں گیس کی کمی اور زمینداروں کو تین سو ارب روپے سے زیادہ نقصانات پر حکومت کی توجہ دلائی ہے اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف سے کہا کہ وہ بلوچستان میں گیس کے مسئلے کو حل کریں اور زمینداروں کے ایک سال کے بل معاف کرکے ان کے ذمے واجب الادا رقم وفاقی و صوبائی حکومت کیسکو کو ادا کرے تاکہ کیسکو بھی مالی طور پر مستحکم رہے اور کیسکو کے آفیسران اور مزدور صارفین کی بہتر خدمت کرسکیں۔ انہوں نے یونین کی طرف سے پیش کیے جانے والے تمام مطالبات کو جائز قرار دیا اور کہا کہ یہ مطالبات فوری طور پر حل کرنے کیلئے وہ خود آپ کی آواز بنیں گے اور یقین دلایا کہ یہ تمام جائز مطالبات ترجیحی بنیادوں پر حل کرکے مزدوروں کو مطمئن کیاجائے گا تاکہ وہ مطمئن ہو کر ادارے کی ترقی، بجلی چوری روکنے، ریکوری اہداف حاصل کرنے کیلئے مزید بہتر کام ایمانداری اور محنت سے کریں۔ اس موقع پر ایم پی اے نصیر احمد شاہوانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی صوبے کے مظلوم اور محکوم لوگوں کی آواز ہے اورہماری پارٹی زمینداروں اور مزدوروں کے مسائل جلد سے جلد حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر اپنے صوبے کے حقوق کے حل کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی تاکہ اس پسماندہ صوبے کے عوام بھی دیگر صوبے کے عوام کی طرح اپنے آئینی اور قانونی حقوق حاصل کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں