بلوچستان میں بجلی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے سولر اور ونڈ منصوبوں پر مشاورتی اجلاس

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور ضرورتوں کو پوراکرنے کے لئے حکومت کی جانب سے مختلف منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے تاکہ مستقبل کی ضرورتوں کو پوراکیاجاسکے۔ ان خیالات کااظہار چیف ایگزیکٹوآفیسرکیسکوانجینئر عبدالکریم جمالی نے نیسپاک۔ایکلیریون (جوائنٹ وینچر) کے ساتھ ایک منعقدہ اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں رنیوایبل انرجی ایکسپرٹ ایمرگ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر گرون ڈریسمین، نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان(نیسپاک) کے منیجر محمدایوب کے علاوہ کیسکوکے چیف انجینئرز اور سینئر افسران بھی شریک تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹوآفیسرکیسکونے کہاکہ صوبہ بلوچستان سولر اور ونڈ منصوبوں کیلئے انتہائی اہم ہے اور صوبے میں ایسے کئی موزوں مقامات ہیں جہاں پر سولر اور ونڈکے منصوبے شروع کئے جاسکتے ہیں تاکہ مقامی سطح پر لوگوں کی بجلی کی ضرورتوں کوپوراکیاجاسکے۔انہوں نے کہاکہ چاغی،پنجگوراور واشک کاعلاقہ ان منصوبوں کے لئے خاصی اہمیت کاحامل ہے جہاں سولر اور ونڈکے منصوبے لگاکر مقامی بجلی کی ضرورتوں کو پوراکیاجاسکتاہے۔قبل ازیں رنیوایبل انرجی ایکسپرٹ ایمبرگ کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر گرون ڈریسمین نے صوبہ میں رینوایبل انرجی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ وزارت توانائی (پاور ڈویژن) حکومت پاکستان کی مددسے سولر اورونڈپاور کی فزیبلٹی اسٹڈی مرتب کرلیاگیاہے تاکہ صوبہ بلوچستان میں موزوں مقامات پر سولر اور ونڈکے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شروع کئے جائیں۔ ڈاکٹر گرون ڈریسمین نے کہاکہ صوبہ کے دوردراز علاقوں میں ان منصوبوں کے شروع کرنے سے سالانہ دس فیصدتک لائن لاسز میں کمی لائی جاسکتی ہے اور اس سلسلے میں ریجنل پاور گرڈاسٹیشن کے قیام سے صوبہ کے بہت سے علاقے مستفید ہوسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ ان منصوبوں کی تکمیل سے موجودہ ٹرانسمیشن لائن سے 300میگاواٹ تک بجلی درآمد اور برآمد کیاجاسکتاہے۔ اجلاس میں سولر اور ونڈمنصوبوں کے حوالے سے کئی تجاویز پیش کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں