وفاق نے بلوچستان کے وسائل کو لوٹا، بلوچستان کے اختیارات واپس لیں گے، ہاشم نوتیزئی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے وفاقی وزیر مملکت برائے پانی و بجلی میر محمد ہاشم نوتیزئی نے کہاہے کہ ہماری جماعت نے بلوچستان کے ساحل و وسائل پر بلوچستان کی دسترس کے لئے روز اول سے ہی واضح موقف اپنا رکھا ہے اور پارٹی سربراہ رکن قومی اسمبلی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے پارٹی کا موقف قومی اسمبلی میں گزشتہ دنوں بلوچستان کے حقوق کو سلب کرنے کیلئے پاس کی جانے والی قرار داد اور سینیٹ سمیت قومی اسمبلی سے ریکوڈک معاہدے کیلئے جو بل پاس کیا ہے اس پر اپنا اصولی موقف ایوان کے سامنے رکھا ہے اس لئے ہم نے حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جاکر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے بلوچستان اور عوام کے مفادات کے تحفظ کے لئے کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا میر محمد ہاشم نوتیزئی نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام نے بھی اس مسئلے پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے یاد رہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو مائنز اینڈ منرلز سمیت صوبے کے وسائل کے بارے میں معاہدوں کا تمام اختیار حاصل ہے اور آئین کے آرٹیکل 144 کے تحت اسمبلی میں قرار داد پیش کرکے انہوں نے بلوچستان کے اختیارات وفاق کو منتقل کئے ہیں جو درست نہیں کیونکہ بلوچستان کو اٹھارویں ترمیم کے بعد اپنے وسائل پر مکمل دسترس حاصل ہے اور وہ قانون کی رو سے سرزمین سے نکلنے والے قدرتی وسائل کے معاہدے خود کرسکتے ہیں وفاقی حکومت کو بلوچستان کی پسماندگی اور عوام میں پائے جانے والے احساس محرومی کو دور کرنے کے لئے اٹھارویں ترمیم کے بعد منتقل ہونے والے اختیارات اور فنڈز میں مزید اضافہ کرتے لیکن انہوں نے ایسا کرنے کی بجائے بلوچستان کے وسائل پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے اٹھارویں ترمیم کے تحت دیئے جانے والے اختیارات واپس لینا شروع کردیئے ہیں جو کسی صورت ہمیں قبول نہیں کیونکہ ایسی صورتحال جس میں ہم اپنے وسائل پر دسترس وفاق کو دیں اور وہ ہمارے مستقبل اور وسائل کے حوالے سے فیصلہ کریں گے پہلے ہی وفاق نے بلوچستان کے وسائل کو لوٹا ہے ہمارا جینا مرنا اپنے عوام کے ساتھ ہے ہم کسی صورت بھی بلوچستان کی تباہی اور عوام کی بربادی قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی ایسے وفاقی حکومت کے اقدامات کا حصہ بنیں گے اس لئے ہماری جماعت نے اس کے خلاف آواز بلند کی ہے اور جماعت کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا ہے تاکہ اس صورتحال پر حکومت کے ساتھ نمٹنے کے لئے متفقہ طور پر فیصلہ کرکے آگے بڑھ سکیں۔ مذکورہ بل کو جس طرح پاس کروایا گیا ہے سیاسی رہنماؤں منتخب عوامی نمائندوں اور پارلیمنٹرین سمیت سیاسی پارٹیوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے اور ہم نے بھی قومی اسمبلی سمیت کابینہ سے واک آؤٹ کیاہے حکومت کی جانب سے اس بل میں ترمیم کرنے کے لئے بات چیت شروع کی جارہی ہے ہم اپنے صوبے کے اختیارات واپس لائیں گے اور حکومتی نمائندوں کی جانب سے ایک دو دن کا وقت مانگا گیا ہے کہ وہ اس حوالے سے قانونی ترمیم لائیں گے اور حکومت بی این پی کے سربراہ ہمارے قائد سردار اختر جان مینگل سے رابطہ کررہے ہیں ہم اپنے اختیار پر کسی دوسرے کو دسترس نہیں دے سکتے۔ اس لئے ہم ہر فورم پر آواز بلند کرتے ہوئے اپنا احتجاج کریں گے اور مسئلے کے حل کو یقینی بنائیں گے۔


